اداریہ
پاکستان اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں مہنگائی سرفہرست ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک مشکل مرحلہ بنتا جا رہا ہے، جبکہ تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہا۔
مہنگائی کے اس بحران کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں معاشی بدانتظامی، درآمدات پر انحصار، روپے کی قدر میں کمی اور عالمی منڈی میں قیمتوں کا بڑھنا شامل ہیں۔ اگرچہ حکومت مختلف پالیسی اقدامات کے ذریعے معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ان اقدامات کے ثمرات عام شہری تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری جیسے مسائل بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت قلیل مدتی اقدامات کے ساتھ ساتھ طویل مدتی معاشی اصلاحات پر بھی توجہ دے۔ مقامی پیداوار کو فروغ، زرعی شعبے کی بہتری، اور کمزور طبقے کے لیے مؤثر ریلیف پیکجز ناگزیر ہو چکے ہیں۔ مہنگائی کا مسئلہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ انسانی زندگیوں سے جڑا ہوا سوال ہے، جس کا حل قومی ترجیحات میں سنجیدگی اور تسلسل کا متقاضی ہے۔

