اداریہ
کراچی پریس کلب جیسے تاریخی اور جمہوری ادارے میں پرامن سیاسی اجلاس کے دوران نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری ایک تشویشناک اور افسوسناک واقعہ ہے۔ پریس کلب محض ایک عمارت نہیں بلکہ آزادیٔ اظہار، سیاسی مکالمے اور جمہوری روایات کی علامت ہے۔ ایسے مقام پر ریاستی طاقت کا استعمال دراصل ان اقدار پر حملہ ہے جن پر ایک جمہوری معاشرہ قائم ہوتا ہے۔
آئینِ پاکستان واضح طور پر ہر شہری اور سیاسی جماعت کو پرامن اجتماع، سیاسی سرگرمی اور اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے۔ اس کے باوجود سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عملی طور پر آئینی ضمانتوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتا ہے بلکہ عوام میں سیاسی عمل سے مایوسی اور بے اعتمادی کو بھی جنم دیتا ہے۔
یہ امر مزید تشویش کا باعث ہے کہ ایسے اقدامات ایک منتخب صوبائی حکومت کے دور میں سامنے آ رہے ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت بتدریج ختم کی جا رہی ہے؟ سیاسی اختلاف کو طاقت کے ذریعے دبانا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔
جمہوری معاشروں میں ریاست کا کردار شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، نہ کہ ان کی آواز کو خاموش کرنا۔ پریس کلب جیسے فورمز پر سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنا دراصل آزادیٔ صحافت اور سیاسی مکالمے دونوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گرفتار سیاسی رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے، ان کے خلاف قائم کیے گئے بے بنیاد مقدمات ختم کیے جائیں اور اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ اگر ایسے اقدامات کو معمول بنا لیا گیا تو اس کے نتائج جمہوری نظام، سیاسی استحکام اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
جمہوریت طاقت سے نہیں، مکالمے، برداشت اور آئین کی بالادستی سے مضبوط ہوتی ہے—اور آج اس اصول کو سنجیدگی سے یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

