اداریہ
دنیا اس وقت ایک پیچیدہ اور غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے۔ بین الاقوامی سیاست، معیشت، سلامتی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے عوامل نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خطوں میں جاری جنگیں، توانائی اور خوراک کے بحران، اور عالمی معیشت میں سست روی نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سب کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے چیلنجز بھی بڑھ گئے ہیں اور ذمہ داریاں بھی۔
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو امریکہ اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ شدت اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت اور سفارت کاری پر واضح ہیں۔ یوکرین جنگ نے یورپ کی معیشت کو جھنجھوڑ دیا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام نے عالمی توانائی منڈی کو غیر یقینی بنا رکھا ہے۔ ان حالات میں عالمی ادارے بھی مؤثر کردار ادا کرنے میں مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں، جس کا خمیازہ کمزور معیشتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان اس عالمی تناظر میں ایک اہم مگر نازک مقام رکھتا ہے۔ ایک طرف اسے اندرونی سیاسی عدم استحکام، معاشی دباؤ، مہنگائی اور قرضوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، تو دوسری طرف خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اس کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور خطے میں رابطہ سازی کا کردار اسے عالمی سطح پر اہم بناتا ہے۔
تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی معاشی سست روی نے پاکستان کی برآمدات، ترسیلاتِ زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاملات، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات—خصوصاً سیلاب اور پانی کی قلت—پاکستان کی معیشت پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ اس صورتحال میں صرف بیرونی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں؛ داخلی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
خارجہ پالیسی کے محاذ پر پاکستان کو توازن، خودمختاری اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی صف بندی میں پاکستان کو کسی ایک بلاک پر مکمل انحصار کے بجائے کثیر الجہتی سفارت کاری کو فروغ دینا ہوگا۔ علاقائی امن، خصوصاً افغانستان میں استحکام، پاکستان کے لیے براہِ راست اہمیت رکھتا ہے اور اس ضمن میں فعال اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی صورتحال جتنی بھی مشکل کیوں نہ ہو، پاکستان کے پاس اب بھی امکانات موجود ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ہم داخلی استحکام، معاشی اصلاحات، اچھی حکمرانی اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کو ترجیح دیں۔ ایک بدلتی ہوئی دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ امید اور ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

