طلباء کو امتحان میں چیٹGPTسے اجتماعی نقل کروانے پر3 ٹیچرز اور چپڑاسی معطل

بھارتی ریاست مہاراشٹر میں چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے 12 ویں کے امتحان میں اجتماعی نقل کی سازش پکڑی گئی، اس منصوبے میں ملوث 3 اساتذہ سمیت 4 قصوروار ملازمیں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ابتدائی تحقیات میں میں پتہ چلا ہے کہ امتحان کے دوران سوال نامے کی فوٹو باہر بھیجی گئی تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے سوالات کے جوابات چیٹ جی پی ٹی سے تلاش کئےاور انہیں پرنٹ کر کے امتحانی مرکز تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

انڈین میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک طرف اے آئی امپیکٹ سمٹ ہندوستان کو مصنوعی ذہانت کی عالمی طاقت کے طور پر قائم کرنے کی سمت میں بڑا قدم ثابت ہو رہی ہے وہیں دوسری طرف ملک کی اقتصادی راجدھانی مہاراشٹر سے اے آئی کے غلط استعمال کی چونکا دینے والی خبر نے ٹیکنالوجی کے تاریک پہلو کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ 18 فروری کو گڑچرولی ضلع کے چامورشی میں جے کے بومن وار جونیئر سائنس اینڈ آرٹس کالج واقع امتحانی مرکز میں 12 ویں جماعت کے پولیٹیکل سائنس پیپر میں اجتماعی نقل کی بڑی سازش کا پردہ فاش کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امتحانی سوال نامے کی تصویر باہربھیج کرچیٹ جی پی ٹی سے جواب نکال کر ان کی پرنٹ کاپی مرکز تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اس سنسنی خیزمعاملے میں 3 اساتذہ اور ایک چپراسی کو معطل کر دیا گیا ہے اور پولیس مقدمہ درج کرکے مزید کارروائی کررہی ہے۔ اطلاع کے مطابق ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سوہاس گاڈے نے 18 فروری کو پولیٹیکل سائنس امتحان کے دوران مرکز کا اچانک معائنہ کیا۔ اسی وقت مرکز کے باہر متعلقہ مضمون کے مائیکرو نوٹ اور جاری پیپر کے سوال ناموں کے چیٹ جی پی ٹی سے نکالے گئے پرنٹ آؤٹ برآمد ہوئے۔ اس سے اجتماعی نقل کی سازش کا انکشاف ہوا۔
اس معاملے کی مزید جانچ پڑتال میں پتہ چلا ہے کہ امتحان کے دوران سوال نامے کی تصویر باہر بھیجی گئی تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے سوالات کے جوابات چیٹ جی پی ٹی سے تلاش کیے اور انہیں پرنٹ کرکے امتحانی مرکز تک پہنچانے کی کوشش کی۔ وقت رہتے چھاپے ماری کے سبب یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔ معاملے کو سنگین مانتے ہوئے سی ای او نے فوری طور پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کی رپورٹ میں بڑے پیمانے پر نقل کی کوشش کی تصدیق ہونے کے بعد انچارج گروپ ایجوکیشن آفیسر سدھیر اکھاڑے کی شکایت پر چامورشی پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا۔ سنٹر ہیڈ سمیت 3 اساتذہ اور ایک چپڑاسی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔محکمہ تعلیم نے ملزم تمام ملازمین کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ اس واقعہ سےگڑچرولی ضلع کے محکمہ تعلیم میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ تمام امتحانی مراکز پرنگرانی سخت کرنے اور اچانک معائنہ تیزکرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں