کراچی: انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے رہنما، ٹیچرز کو بائیکاٹ ختم کرانے کے سلسلے میں قائل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
انجمن اساتذہ نے جامعہ کراچی میں ایک ماہ سے جاری امتحانی عمل کے بائیکاٹ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل انجمن اساتذہ کے ذمے دار افراد نے منعقدہ اجلاس میں سندھ ایچ ای سی کو یہ یقین دہانی کرادی تھی کہ اگر جامعہ کراچی میں مالی و انتظامی خرابیوں پر کمیٹی قائم کرے تو وہ بائیکاٹ ختم کردیں گے۔
بعد ازاں حکومت سندھ کے ادارے سندھ ایچ ای سی نے منگل کی صبح باقاعدہ ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں ایچ ای سی ، محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اور جامعہ کراچی کے اساتذہ و ملازمین نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا جو 40 روز میں اس معاملے پر اپنی کارروائی مکمل کرتی۔
اسی نوٹیفکیشن میں تحریر تھا کہ اساتذہ امتحانی عمل کا بائیکاٹ ختم کردیں گے اور یونیورسٹی انتظامیہ امتحانات کو ری شیڈول کرے گی، تاہم جب منگل کی صبج انجمن اساتذہ کا اجلاس عمومی بلایا گیا تو بعض اساتذہ کی جانب سے بائیکاٹ ختم کرنے اور امتحانات لینے کے معاملے پر شدید مخالفت سامنے آئی اور انجمن کے صدر و سیکریٹری اساتذہ کو بائیکاٹ ختم کرنے پر قائل نہیں کرسکے۔
’ایکسپریس‘ نے انجمن کے صدر غفران عالم کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔ سیکریٹری معروف بن رؤف سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’بائیکاٹ جاری رہے گا کیونکہ ہمارے اساتذہ کو وعدوں پر اعتبار نہیں ہے۔ ایچ ای سی نے جو اپنے نوٹی فکیشن میں کہا ہے، یہ طے نہیں ہوا تھا۔ ہم نے واضح کیا تھا کہ ہم معاملے کو اپنے اجلاس میں لے جائیں گے‘۔
ایکسپریس کے سوال پر کہ اساتذہ کو کیا حکومت سندھ اور سندھ ایچ ای سی پر بھی اعتماد نہیں ہے؟ معروف بن رؤف کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت اجلاس کا اعلامیہ تیار کررہے ہیں بہت الجھے ہوئے ہیں، مزید بات نہیں کرسکتے ۔
واضح رہے کہ ایچ ای سی سے اجلاس میں بائیکاٹ ختم کرنے کی یقین دہانی کے باوجود اسے جاری رکھنے سے حکومت سندھ میں انجمن اساتذہ کا موقف اور پوزیشن دونوں ہی سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 5 جون کو امتحانات کے بائیکاٹ کو ایک ماہ پورا ہوجائے گا، جس کی وجہ سے 46 ہزار طلبہ امتحانات دینے کے لیے پریشان ہیں۔ امتحانات نہ ہونے سے اگلا سیمسٹر وقت پر شروع نہیں ہوپائے گا اور آئندہ تعلیمی سال کے شروع ہونے میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ حکومتِ سندھ نے انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کی جانب سے امتحانات اور تدریسی عمل کے بائیکاٹ ختم کرنے کی یقین دہانی پر کراچی یونیورسٹی کے مالی و انتظامی معاملات و مشکلات پر کمیٹی قائم کردی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سیکریٹری نعمان احسن کی جانب سے جاری کیا تھا۔
نوٹی فکیشن کے بعد یہ امید ہوئی تھی کہ اب تقریباً ایک ماہ سے جاری امتحانی عمل کا بائیکاٹ ختم ہوجائے گا۔ بائیکاٹ ختم کرنے کا باقاعدہ تذکرہ بھی نوٹیفکیشن میں کردیا گیا تھا۔
اس نوٹیفکیشن کے مطابق صدر، سیکریٹری، جوائنٹ سیکریٹری کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی، صدر ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور جنرل سیکریٹری آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن، جامعہ کراچی کے ساتھ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کے دفتر میں منعقدہ اجلاس کے نتیجے میں جامعہ کراچی کے ملازمین کو درپیش مسائل کے جائزے اور حل کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
اس کمیٹیکے اراکین میں چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن بطور کنوینر شامل ہوں گے جبکہ سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ، سیکریٹری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن، صدر کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی غفران عالم ، صدر ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن زاہد بلوچ ، آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر فیصل ہاشمی اراکین میں شامل تھے۔
کمیٹی بنائے گئے ٹرم آف ریفرنسز کے تحت جامعہ کراچی کے تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کے نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل اور شکایات کا جائزہ لے گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ فریقین سے مشاورت کی جائے گی۔ کمیٹی 40 دن کے اندر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔ نوٹی فکیشن میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی (KUTS)، ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ امتحانات کے جاری بائیکاٹ کو فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ جامعہ کی انتظامیہ متاثرہ امتحانات کو دوبارہ شیڈول کرنے کے لیے ضروری انتظامات کرے گی اور نظرثانی شدہ امتحانی شیڈول کا باقاعدہ اعلان کرے گی۔

