کراچی (رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اسپیشل ایونٹس کمیٹی کے زیر اہتمام معروف اسپورٹس کالم نگار اور کرکٹ پر دو تحقیقی کتب ’’کپتان سے کپتان تک‘‘ اور ’’کرکٹ کا فیلڈ مارشل جاوید میانداد‘‘ کے مصنف محمد سجاد خان کی تقریب پذیرائی حسینہ معین ہال میں کی گئی جس کی صدارت آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے کی جبکہ مہمان خصوصی جاوید میانداد نے ٹیلی فونک گفتگو کی،تقریب میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر ہارون رشید، مصنف محمد سجاد خان، کرکٹر توصیف احمد، صادق محمد، اقبال اے رحمن، شاہدہ شعیب ، اقبال لطیف اور شاہ ولی اللہ نے اظہار خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض نعمان خان اور انجم چاندنا نے انجام دیے۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے مصنف محمد سجاد خان کو پھول پیش کیے۔تقریب کے آغاز میں محمد سجاد خان کے کام پر مبنی ڈاکومینٹری فلم بھی دکھائی گئی۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے صدارتی خطبے میں کہا کہ کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ پاکستان کی قومی شناخت، یکجہتی اور اجتماعی شعور کی علامت ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور نظریات کا حسین امتزاج ہے، لیکن جب قومی کرکٹ ٹیم میدان میں اترتی ہے تو پوری قوم ایک جذبے اور ایک شناخت کے تحت متحد ہو جاتی ہے۔ انہوں نے محمد سجاد خان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کی تاریخ اور اس کے سماجی اثرات کو کتابی صورت میں محفوظ کرنا ایک قابلِ قدر خدمت ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے اہم حوالہ ثابت ہوگی۔سابق کھلاڑی صرف کھیلنے کے لیے نہیں بلکہ ملک کا نام روشن کرنے کے جذبے سے میدان میں اترتے تھے۔ اس دور میں آج جیسی مالی مراعات اور تجارتی مفادات موجود نہیں تھے، اس کے باوجود کھلاڑی قومی وقار، ذمہ داری اور حب الوطنی کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے۔آج کرکٹ ایک بڑی کمرشل صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے جہانگیر خان جیسے کھلاڑی قومی اثاثہ ہیں۔ غلام محمد خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کھیلوں کے فروغ اور ترقی کے لیے وقف کیا۔میں سجاد خان کو اتنی شاندار کتابیں لکھنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مہمان خصوصی جاوید میانداد نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اتنی بڑی تعداد میں آپ لوگ تقریب میں آئے، محمد سجاد خان کی جب کتاب آپ پڑھیں گے تو بہت مزہ آئے گا ۔میں اتنی شاندار کتاب لکھنے پر محمد سجاد خان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔سابق چیف سلیکٹر ہارون رشید نے کہا کہ میں سجاد خان کو ان کتابوں کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، کسی بھی عظیم شخصیت پر کتاب لکھنا آسان کام نہیں ہوتا، اس کے لیے طویل تحقیق، واقعات کی چھان بین اور مواد کو مربوط انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے سجاد خان بخوبی واقف ہیں۔ جاوید میانداد کی خدمات اور کارنامے پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا روشن باب ہیں، جاوید میانداد نے کرکٹ کے لیے بڑی جدوجہد کی۔ اسپیشل ایونٹس کمیٹی کے چیئرمین محمد اقبال لطیف نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہاکہ آج کی شاندار تقریب کا سہرا صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کو جاتا ہے، وہ چاہتے ہیں شاعر، ادیب اور فنکاروں کے ساتھ ساتھ ہمارے قومی کرکٹر ہیروز کی خدمات کو بھی سراہا جانا چاہئے،آج کی تقریب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ معروف کرکٹر توصیف احمد نے کہا کہ کرکٹ بھی صرف میدان میں کھیلنے والوں کی محنت کا نام نہیں بلکہ ان لوگوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جو پس منظر میں رہ کر کھیل اور کھلاڑیوں کی خدمت کرتے ہیں۔آج کی تقریب انہی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔جاوید میانداد اور مشتاق محمد کی وجہ سے مجھے کرکٹ کے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملا۔ جاوید میانداد کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال اے رحمٰن نے کہا کہ کتاب تاریخی ہوتی ہے۔ ادیب مطالعہ سے پروان چڑھتا ہے۔محمد سجاد خان نے کرکٹ کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کی ہے۔ جاوید میانداد ہر فن مولا کھلاڑی تھے ۔ مشتاق محمد اور جاوید میانداد نے اپنی بہترین کپتانی سے خود کو منوایا ۔ میں سجاد خان کو اتنی شاندار کتابیں لکھنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔شاہ ولی اللہ نے اظہارِ خیال کرتےہوئے کہا کہ کتاب ’’کرکٹ کا فیلڈ مارشل جاوید میانداد‘‘ قاری کو کرکٹ کی تاریخ کے ایک زندہ عہد میں لے جاتی ہے۔ اس میں میاں محمد سعید سے لے کر عبدالعزیز، ماجد خان، ظہیر عباس، جاوید میانداد، عمران خان، وسیم اکرم اور دیگر عظیم کھلاڑیوں کے کارناموں کو سمیٹا گیا ہے، جنہوں نے پاکستان کا پرچم دنیا بھر میں بلند کیا۔ میری دعا ہے کہ سجاد خان کا قلم اسی خلوص، تحقیق اور دیانت کے ساتھ آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان کی تاریخ، علم اور شعور کو محفوظ کرتا رہے۔ صادق محمد نے کہا کہ جاوید میانداد کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، انہوں نے اپنی صلاحیت، محنت اور ذہانت سے دنیا میں اپنا منفرد مقام بنایا، سجاد خان نے اپنی کتاب میں ان کی شخصیت اور خدمات کو جس خوبصورتی سے قلم بند کیا ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ یہ محض ایک سوانح یا کھیل کی داستان نہیں بلکہ جاوید میانداد کی جدوجہد اور کامیابیوں کا احوال ہے، انہوں نے کہا کہ یہ کتاب نہ صرف کرکٹ کے شائقین بلکہ نئی نسل کے لیے بھی ایک اہم دستاویز ہے۔مصنف محمد سجاد خان نے کہا کہ آج کی تقریب میں جاوید میانداد بھی ہوتے تو بہت اچھا ہوتا،اتنی شاندار تقریب کے انعقاد پر میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور اقبال لطیف کا شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور نوجوان نسل کی تربیت کا ذریعہ ہے۔ میںنے اپنی کتابوں کی تحقیق کے دوران پاکستان کرکٹ کی تاریخ، اس کے ہیروز اور اہم ادوار کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔نئی نسل کو اپنی کھیلوں کی تاریخ اور قومی ہیروز سے آگاہ ہونا چاہیے۔پاکستانی کرکٹ کی عظیم شخصیات خصوصاً جاوید میانداد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کیا جن کی جدوجہد اور کامیابیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ تقریب کے اختتام پر گوادر سے آئے مہمان حاجی حنیف نے ہارون رشید،محمد سجاد خان ، توصیف احمد سمیت تمام مہمانوں کو شیلڈ پیش کی جبکہ شکیل انصاری نے سونیئر دیے۔

