اسلام آباد(این این آئی)جماعت اہلِ حرم پاکستان کے زیرِ اہتمام ”غدیر مرکزِ اتحادِ امت کانفرنس“کا عظیم الشان انعقاد جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں ہوا، جس میں ملک بھر سے ممتاز مذہبی و سیاسی شخصیات، مشائخ اور تمام مکاتب فکر کے نمائندگان نے شرکت کی۔کانفرنس کا مقصد واقعہ غدیر کے پیغامِ ولایت، عدل، وفاداری اور قیادت کی روشنی میں امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی، شعوری بیداری، اور سامراجی قوتوں کے خلاف فکری و عملی مزاحمت کو تقویت دینا تھا۔ امت کا اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے مقررین نے اس موقع پر اپنے خطابت میں کہا کہ ہم اسرائیل یا امریکہ کو صرف افواج سے نہیں، بلکہ امت کے اتحاد سے شکست دے سکتے ہیں۔فرقہ واریت، انتشار، اور مذہبی منافرت پھیلانا دشمن کی منظم حکمت عملی ہے، بالخصوص محرم جیسے مقدس مہینے میں۔ ایران، فلسطین اور کشمیرکے مظلوموں کی حمایت، ایمان کا تقاضا ہے۔مقررین نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف جاری عالمی سازشیں دراصل اسلامی مزاحمتی تحریکات اور اسلام کی فکری و نظریاتی بنیادوں کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ اگر ایران کو شکست دی گئی تو اس کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ریاستیں نشانہ بنیں گی۔فلسطین و غزہ میں بچوں، عورتوں اور شہریوں کا قتل عام اور کشمیر میں بھارتی مظالم، عالمی ضمیر کے لیے کھلا چیلنج ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی نہایت شرمناک ہے۔مقررین نے کہا کہ امت کو ایسے باکردار، نڈر رہنماوں کی ضرورت ہے جو دین کے محافظ اور عوام کے خیرخواہ ہوں۔مقررین نے محرم الحرام کی آمد پر تمام مکاتب فکر کو تحمل، صبر، اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ محرم صرف غم و ماتم کا نہیں، بلکہ قربانی، وحدت، اور حق کے لیے ڈٹ جانے کا پیغام دیتا ہے۔ ہمیں اسے فرقہ واریت کا ذریعہ نہیں، بلکہ امت کے اتحاد کا مظہر بنانا ہوگا۔مقررین نے اپنے خطبات میں مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان اور اسلامی دنیا، اسرائیلی جارحیت کے خلاف سفارتی و عملی محاذ پر واضح کردار ادا کرے۔اسلامی ممالک کی مشترکہ سربراہی کانفرنس بلائی جائے تاکہ امت کی اجتماعی سمت متعین کی جا سکے۔دین، عقائد، اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کے لیے دینی قیادت، سیاسی جماعتیں اور میڈیا مشترکہ ایجنڈا ترتیب دیں۔تمام طبقات ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں“اور باہمی اختلافات ختم کر کے ایک آواز بنیں۔کانفرنس سے خطاب کرنے والے اہم شخصیات میں ڈاکٹر پیرزادہ نور الحق قادری (سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور)مفتی گلزار احمد نعیمی (مرکزی صدر، جماعت اہلِ حرم پاکستان)سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس جعفری (چیئرمین، مجلس وحدت مسلمین پاکستان)علامہ عارف حسین واحدی (مرکزی نائب صدر اسلامی تحریک پاکستان)سید ناصر عباس شیرازی، ڈاکٹر علی عباس نقوی، ڈاکٹر سید اسامہ بخاری اور دیگر جید علما، مشائخ و ملی قائدین شامل تھے،جبکہ نقابت کے فرائض ڈاکٹر محمد شیر سیالوی، سیکرٹری جنرل جماعت اہل حرم پاکستان نے سرانجام دیے۔ کانفرنس کے اختتام پر فلسطین، ایران، کشمیر، شام، یمن، اور تمام مظلوم مسلمانوں کی نصرت و فتح، عالم اسلام کی بیداری، شہدا کے درجات کی بلندی، اور امت کے اتحاد و اخوت کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔

