تحریر: رشیداحمدنعیم
دنیا کی تاریخ میں انتقام کو ہمیشہ طاقت کی علامت سمجھا گیا ہے۔ کسی نے ظلم کیا ہو، ناانصافی کی ہو یا دل دکھایا ہو، فطری رجحان یہی ہوتا ہے کہ بدلہ لیا جائے اور اپنا حق چھین کر لیا جائے لیکن کیا واقعی انتقام ہی طاقت ہے؟ کیا جواب دینا ہی ہمت کی نشانی ہے؟ یا خاموشی میں بھی کوئی ایسی قوت چھپی ہے جو ہر شُورپر بھاری پڑتی ہے؟آج کے تیز رفتار، شور و غل سے بھرے ہوئے دور میں خاموشی کو اکثر کمزوری سمجھا جاتا ہے لیکن اگر ہم غور کریں تو محسوس ہوگا کہ خاموشی خود ایک احتجاج ہے، ایک پختہ جواب ہے، ایسا جواب جو الفاظ سے بالاتر ہے۔انتقام کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ کسی نے جیسا کیا،ویسا ہی اُس کے ساتھ کیا جائے۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن جاتا ہے جس میں نہ صرف افراد بلکہ معاشرے بھی اُلجھ کر رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف خاموشی ایک ایسا ردعمل ہے جو نہ صرف دوسرے کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ خود انسان کو بھی اندر سے مضبوط بناتا ہے۔قرآن مجید میں سورہ الفرقان کی ایک آیت ہے:”اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل اُن سے مخاطب ہوں تو وہ سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں۔”(الفرقان: 63)۔یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر موقع پر جواب دینا ضروری نہیں۔ بعض اُوقات خاموشی ہی وہ بلند اخلاقی معیار ہے جو ایک مومن کو دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔انتقام کی خواہش انسان کو اندر سے جلا دیتی ہے۔ نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔ دل میں کڑواہٹ بیٹھ جاتی ہے اور ذہن ہر وقت اُلجھا رہتا ہے لیکن خاموشی انسان کو اندر سے پُرسکون رکھتی ہے۔ یہ خاموشی صرف زبان کی نہیں ہوتی بلکہ دل اور دماغ کی بھی ہوتی ہے۔ یہ خاموشی ہمیں سوچنے، بہتر فیصلے کرنے اور حالات کو سمجھنے کی مہلت دیتی ہے۔اکثر اُوقات انسان کا خاموش رہ جانا دوسروں کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ جب آپ کے پاس جواب دینے کا مکمل حق ہو، طاقت ہو مگر آپ صرف خاموشی کو اپنا ہتھیار بنائیں تو یہی خاموشی ظالم کے لیے سب سے تکلیف دہ چیز بن جاتی ہے۔کبھی کبھی آپ کی خاموشی دوسروں کو اُن کی غلطی کا احساس دلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اِس لیے کہا جاتا ہے خاموشی ایک ایسا تیر ہے جو بغیر چلائے سیدھا دل پر لگتا ہے۔ہمارے معاشرے میں بدلے کی روش نے رشتے بگاڑ دیئے ہیں۔ خاندان ٹوٹ رہے ہیں۔ دوست دشمن بن رہے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی ختم ہو رہی ہے۔ اگر ہم ”انتقام نہیں، خاموشی” کی سوچ کو عام کریں تو یہ نہ صرف افراد کے رویوں میں تبدیلی لا سکتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں رواداری اوربرداشت کو فروغ دے سکتی ہے۔انتقام وقتی تسکین دیتا ہے مگر خاموشی دائمی سکون۔ بدلہ لینا بہادری نہیں بلکہ اپنے جذبات پر قابو رکھنا اصل دلیری ہے۔ خاموشی صرف الفاظ کا نہ ہونا نہیں بلکہ شعور، وقار اور ظرف کا مظہر ہے۔تو اگلی بار جب آپ کو لگے کہ بدلہ لینا ضروری ہے، ذرا رُک کر سوچیں۔۔۔ شاید خاموشی ہی آپ کی سب سے بڑی فتح ہو۔خاموشی اکثر وہ کچھ کہہ جاتی ہے جو الفاظ کبھی نہیں کہہ سکتے۔دنیا میں ہر انسان کی فطرت، تربیت اور مزاج ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کچھ لوگ وسیع الظرف، بردبار اور نرم خو ہوتے ہیں تو کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر بات میں تنقید، طنز اور تلخی کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر کم ظرف کہلاتے ہیں یعنی وہ جن کی سُوچ محدود، برداشت کم اور ظرف چھوٹا ہوتا ہے۔کم ظرفی صرف کسی کے غریب یا کم حیثیت ہونے کا نام نہیں بلکہ اصل کم ظرف وہ ہوتا ہے جو دُوسروں کو نیچا دکھا کر خود کو بلند محسوس کرے، جو دُوسروں کی کامیابی میں جلتا ہواور جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر انا کا مسئلہ بنائے۔ کم ظرف انسان ہمیشہ اپنی ذات کے گردگھومتا ہے اور جب اُسے لگتا ہے کہ کسی اور کی عزت یا کامیابی اُس سے بڑھ گئی ہے تو وہ تنقید، الزام تراشی یا جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے دُوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔عموماً ہمارا فوری ردعمل ہوتا ہے کہ ہم بھی جواب میں تلخی اختیار کریں، دلیل سے اُس کی بات کو رد کریں یا پھر جھگڑا مول لیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کم ظرف انسان کا مقابلہ دلیل، لڑائی یا بحث سے نہیں جیتا جا سکتا۔ اُس کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار خاموشی ہے۔خاموشی دراصل ایک ایسی زبان ہے جسے ہر کوئی سمجھتا تو ہے مگر بہت کم لوگ استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جو آپ کو فضول بحث سے بچاتا ہے۔آپ کی عزت کو محفوظ رکھتا ہے اور وقت کے ساتھ آپ کے وقار میں اضافہ کرتا ہے۔ہمارے معاشرے میں بعض اُوقات خاموشی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے مگر درحقیقت خاموش رہنا سب سے بڑی طاقت ہے۔ جب آپ کسی کم ظرف شخص کی تلخی، بدتمیزی یا الزام تراشی کا جواب نہیں دیتے تو آپ اُس کی سطح پر نہیں اُترتے۔ آپ یہ پیغام دیتے ہیں کہ آپ کی شخصیت اتنی بلند ہے کہ نیچ سطح پر اُتر کر مقابلہ کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔خاموشی آپ کی عزت کو بچاتی ہے جبکہ لڑائی جھگڑا اکثر شخصیت کی تذلیل کا سبب بنتا ہے۔ یہ دنیا دیکھتی ہے کہ کون کس سطح پر ہے۔ ایک خاموش انسان اکثر دلوں میں جگہ بناتا ہے جبکہ چیختا چلاتا شخص خود کو رسوا کرتا ہے۔حضرت علیؓ کا قول ہے”کم ظرف انسان سے دور رہو کیونکہ وہ تمہاری خاموشی کو کمزوری سمجھے گا اور تمہاری بُردباری کو خوف۔”مگر یہی کم ظرف انسان وقت آنے پر اپنی غلط فہمی کی قیمت خود چکاتا ہے۔خاموشی کا صلہ وقت دیتا ہے۔وقت ایک ایسا منصف ہے جو سب کے چہروں سے نقاب ہٹا دیتا ہے۔ اگر آپ حق پر ہیں تو اپنی زبان سے نہیں، اپنے عمل اور صبر سے ثابت کریں۔ کم ظرف انسان وقتی طور پر لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے مگر دیرپا اثر صرف اُس کا ہوتا ہے جو اپنے وقار کے ساتھ جیتا ہے۔ جو برداشت کرتا ہے اور خاموشی کو ڈھال بناتا ہے۔زندگی میں ہمیں ایسے کئی افراد ملیں گے جو ہمیں تکلیف دیں گے، ہمارے خلاف بولیں گے، سازشیں کریں گے مگر اُن سب کا جواب اگر ہم بحث و تکرار سے دیں گے، تو ہم بھی اُسی سطح پر آ جائیں گے۔ یاد رکھیں کم ظرف انسان سے لڑائی لڑائی سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ خاموشی ہی وہ آئینہ ہے جس میں اُس کی بدصورتی خود اُسے دکھائی دیتی ہے۔خاموش رہیں،باوقار رہیں اوروقت کواپناوکیل بننے دیں۔
رشیداحمدنعیم
03014033622

