تحریر:سردار محمدریاض
پاکستان کے شمال مشرق میں واقع خطہ آزاد جموں و کشمیر قدرتی حسن، سرسبز پہاڑ، بل کھاتی ندیاں اور دلکش وادیاں رکھنے والا علاقہ ہے جسے بجا طور پر ”جنتِ نظیر“ کہا جاتا ہے لیکن اس”جنت نظیر“ کی فطرتی خوبصورتی کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہے کہ یہاں کے باسی آج بھی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔صاف پانی، تعلیم، صحت، روزگار اور آمدورفت جیسے بنیادی حقوق،جنہیں ہر مہذب معاشرے میں شہریوں کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیا جاتا ہے آزاد کشمیر کے عوام کے لیے اب بھی ایک خواب کی مانند ہیں۔آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بسنے والے ہزاروں خاندان آج بھی صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ بیشتر دیہات میں خواتین اور بچے روزانہ کئی کلومیٹر کا سفر طے کرکے پہاڑی چشموں یا ندی نالوں سے پانی لاتے ہیں جو اکثر آلودہ ہوتا ہے پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی سے پیٹ، جگر، اور آنتوں کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔حکومتی دعوؤں کے برعکس آزاد کشمیر میں تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اکثر سکول نہ صرف عمارت، فرنیچر اور ٹوائلٹس جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں بلکہ وہاں تربیت یافتہ اساتذہ کی بھی کمی ہے۔ دیہی علاقوں میں تو تعلیمی اداروں کا وجود ہی سوالیہ نشان ہے خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کے معاملے میں جہاں ثقافتی اور معاشی رکاوٹیں مزید محرومی کو جنم دیتی ہیں۔اگر کوئی شخص آزاد کشمیر کے دور افتادہ علاقے میں بیمار ہو جائے تو اس کے لیے بروقت اور معیاری علاج ایک کٹھن امتحان بن جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتال عملے، ادویات اور جدید مشینری سے محروم ہیں۔ اکثر مریضوں کو مظفرآباد، راولاکوٹ یا میرپور جیسے بڑے شہروں میں منتقل کرنا پڑتا ہے جس کے دوران ہی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔آزاد کشمیر میں مقامی سطح پرانڈسٹری نہ ہونے کے برابر ہے۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر نہ ہونے کے باعث یا تو ملک کے بڑے شہروں یا خلیجی ممالک کی طرف ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے مقامی معیشت جمود کا شکار ہے اور انسانی وسائل دوسرے خطوں کی ترقی میں استعمال ہو رہے ہیں جب کہ کشمیر خود پسماندگی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔آمد و رفت کے وسائل کی کمی آزاد کشمیر کے لیے ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اکثر دیہات کچے راستوں یا خطرناک پہاڑی ٹریکس پر واقع ہیں۔ بارش اور برفباری کے موسم میں یہ راستے بند ہو جاتے ہیں جس سے نہ صرف روزمرہ زندگی مفلوج ہو جاتی ہے بلکہ مریض، طلبہ، اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اگرچہ ہر سال وفاقی و صوبائی بجٹ میں آزاد کشمیر کے لیے اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں لیکن یہ فنڈز کرپشن، ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی مداخلت کی نذر ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ترقی کا پہیہ سست روی کا شکار ہے اور عوام کا اعتماد حکومت سے اٹھتا جا رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات دے کر نچلی سطح پر ترقیاتی کاموں کی نگرانی کی جائے۔ شفافیت، جواب دہی، اور عوامی شراکت ہی وہ عناصر ہیں جو اس صورتِ حال کو بدل سکتے ہیں۔آزاد کشمیر کے عوام محض خوبصورت وادیوں کے باسی نہیں بلکہ ان کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور شہری کا۔ ان کی محرومی کو نظر انداز کرنا ایک مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف تقریریں اور دعوے نہ کریں بلکہ عملی اقدامات سے ان مظلوم باسیوں کی زندگی میں بہتری لائیں کیونکہ جب تک ایک عام فرد کی زندگی میں آسانی نہیں آئے گی تب تک حقیقی ترقی ایک خواب ہی رہے گی۔آزاد کشمیر کی خوبصورتی بلا شبہ قدرت کا ایک نایاب تحفہ ہے، لیکن یہ تحفہ تب تک ادھورا ہے جب تک یہاں کے عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہیں۔ پانی، تعلیم، صحت، روزگار اور ٹرانسپورٹ کوئی خیرات نہیں بلکہ شہریوں کا حق ہے۔ حکومت، ادارے، میڈیا اور سول سوسائٹی کو اب جاگ جانا چاہیے، کیونکہ اگر ایک خوبصورت وادی میں بسنے والا انسان بدحال ہے، تو وہ خوبصورتی کس کام کی؟

