مکران کی تباہی کا نوحہ؛ منشیات

تحریر رئیس ماجد شاہ

سمندر کی نیلی آنکھیں جب مکران کے ساحلوں کو دیکھتی ہیں تو وہ صدیوں کی داستانیں سناتی ہیں۔ ہوا جب پہاڑوں سے اتر کر بستیوں میں گھلتی ہے تو اس کے ساتھ تاریخ کی خوشبو آتی ہے — وہ تاریخ جس نے اس دھرتی کو غیرت، مہمان نوازی، بہادری اور انسانی ہمدردی کے جوہر بخشے۔ مگر آج انہی فضاؤں میں ایک ایسا زہر پھیل گیا ہے جو زندگیوں کو بے آواز قتل کر رہا ہے۔ یہ زہر منشیات کا ہے، جو مکران کی رگوں میں آہستہ آہستہ سرایت کر چکا ہے۔

یہ زمین جو کبھی ماہی گیروں، زمینداروں، صحرائی مسافروں اور علم و ہنر کے متوالوں کی پہچان تھی، اب اسی زمین کے سجیلے جوان چرس، تریاق، افیون، کرسٹل اور شیشہ جیسے زہروں کے اسیر بن چکے ہیں۔ وہ گلیاں جہاں کبھی بلوچی لوک گیتوں کی دھنیں گونجتی تھیں، اب سرنجوں کے کچرے اور خالی لفافوں سے بھری پڑی ہیں۔

افغانستان سے خوشکی کے راستوں سے آنے والا یہ زہر بلوچستان کے ریگزاروں سے گزر کر مکران کے دامن میں اترتا ہے۔ پہاڑوں کی اوٹ میں، وادیوں کے سناٹوں میں اور خشک راستوں کی گرد میں وہ زنجیر بنتی جا رہی ہے جس نے پورے مکران کو جکڑ لیا ہے۔ یہ زہر بعد ازاں انہی ساحلی لکیروں سے سمندر پار دوسرے خطوں تک بھیجا جاتا ہے۔
یوں مکران، جو قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کا مظہر تھا، اب منشیات کے تاجروں کے لیے ایک گزرگاہ بن چکا ہے۔

یہ وہی مکران ہے جہاں مہمان کو خدا کا سایہ سمجھا جاتا تھا۔
جہاں غربت کے باوجود دسترخوان خالی نہیں رہتے تھے۔
جہاں بہادری محض تلوار نہیں بلکہ ضمیر کا نام تھی۔
جہاں انسانیت کا رشتہ قبیلے، زبان اور علاقے سے بڑھ کر تھا۔
آج انہی بستیوں کے دروازوں پر وہ زہر بکتا ہے جو نسلوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

بلوچ تہذیب کی بنیاد ہمیشہ غیرت اور محبت کے امتزاج پر رہی۔ مگر آج اس بنیاد میں دراڑ پڑ چکی ہے۔
نوجوان جو کبھی تعلیم، فن، اور جدوجہد کا استعارہ تھے، اب نشے کے دھند میں بھٹک رہے ہیں۔
کالجوں کے کمروں میں کرسٹل کے ذرات بکھرے ہیں، اسکولوں کے باہر شیشے کا دھواں اڑتا ہے، اور گلیوں میں افیون کی بُو نے خوابوں کو دبا دیا ہے۔

وہ ہاتھ جو کتاب تھامنے کے لیے بنے تھے، اب سرنج پکڑے اپنی تقدیر پر مہر لگا رہے ہیں۔
وہ آنکھیں جو ماضی کی داستانوں سے فخر سیکھتی تھیں، اب مایوسی کے دھندلکے میں کھو چکی ہیں۔
یہ صرف افراد کی تباہی نہیں — یہ ایک تہذیب کی شکست ہے۔

ماؤں کے آنسو وہ کہانیاں کہتے ہیں جو کسی رپورٹ میں نہیں لکھی جاتیں۔
ایک ماں جب اپنے بیٹے کو نشے کی حالت میں دروازہ کھٹکھٹاتے دیکھتی ہے تو اس کا کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔
کچھ مائیں صبح اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھاتی ہیں، جو ایک اضافی خوراک کے باعث دم توڑ دیتے ہیں۔
یہ منظر صرف ایک گھر کا نہیں، پورے مکران کا نوحہ ہے۔

غربت، بے روزگاری اور محرومیوں نے عورتوں تک کو اس لعنت کے قریب کر دیا ہے۔
کچھ نشے کی گولیاں کھا کر خود کو بھلا رہی ہیں، کچھ اپنی مجبوریوں کی قیمت ادا کر رہی ہیں۔
یہ صرف جرم نہیں، ایک روزمرہ قیامت ہے جو انہی گلیوں میں برپا ہے۔

اور ان سب کے بیچ —
بلوچ ادب کی روشنی اب بھی زندہ ہے۔
عطاء شاد کے اشعار آج بھی غیرت اور وفا کی صدا دیتے ہیں۔
بشیر بیدار کے نغموں میں آج بھی امید کی خوشبو ہے۔
مبارک قاضی اب بھی یاد دلاتے ہیں کہ بلوچ اپنی مٹی، اپنی پہچان اور اپنی روح سے جڑا رہے۔
ان شعرا نے ہمیشہ اپنی زمین کے دکھوں کو لفظوں میں سمیٹا —
اگر وہ آج ہوتے تو یقیناً ان مناظر پر نوحے لکھتے، کہ مکران کی مٹی اپنی اولادوں کو گم ہوتا دیکھ کر چیخ رہی ہے۔

مکران کی شاعری، اس کی ثقافت، اس کے گیت — سب ایک سوال بن گئے ہیں:
کہاں ہیں وہ ادارے جنہیں اس دھرتی کی حفاظت کا عہد تھا؟
کیا قانون کے رکھوالے صرف سرحدوں کی نگرانی کے لیے ہیں، ان روحوں کے لیے نہیں جو اندر سے مر رہی ہیں؟
اگر حکومت چاہے تو سرحدی ناکوں سے لے کر اندرونی گزرگاہوں تک چند ماہ میں یہ زہر ختم ہو سکتا ہے، مگر افسوس کہ مکران کے بیٹے مر رہے ہیں اور فائلوں میں صرف نوٹس گردش کر رہے ہیں۔

یہ لمحہ خاموشی کا نہیں، بغاوتِ خیر کا ہے۔
علماء کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبوں میں اس ناسور کو موضوع بنائیں۔
اساتذہ کو چاہیے کہ کلاس رومز میں اس لعنت کے خلاف شعور جگائیں۔
شاعر اور صحافی اپنی تحریروں کو تلوار بنائیں۔
سماجی تنظیمیں ساحل سے پہاڑ تک بیداری کی صدا بنیں۔

خاموشی اب جرم ہے۔
جو خاموش ہے، وہ شریکِ جرم ہے۔

آج مکران کے ساحلوں پر ہوا چیخ رہی ہے۔
پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر گلیوں کے سناٹے تک ایک ہی صدا گونج رہی ہے —
“ہمیں بچاؤ!”
یہ صدا مکران کی نہیں، آنے والی نسلوں کی ہے۔

اگر آج اربابِ اختیار نے کان نہ دھرے تو تاریخ انہیں ان تماشائیوں میں لکھے گی جو تباہی دیکھتے رہے اور کچھ نہ کیا۔
اور اگر انہوں نے حوصلہ دکھایا تو یہی مکران ایک بار پھر اپنی غیرت، اپنی مہمان نوازی، اپنی بہادری اور اپنی محبت سے دنیا کو روشنی دکھائے گا۔

مکران کی خاموشی اب صرف سناٹا نہیں —
یہ چیخ ہے جو آسمان سے سوال کر رہی ہے:
کیا کوئی ہے جو اسے سن سکے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں