وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس،تربت یونیورسٹی فیزٹو نظرثانی شدہ منصوبہ منظور

تربت (این این آئی)وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کی خصوصی دلچسپی اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی مثالی قیادت میں ٹیم ورک اور مشترکہ کوششوں کی بدولت یونیورسٹی آف تربت نے اعلی تعلیم کے سفر میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی(سی ڈی ڈبلیوپی) کے اجلاس میں یونیورسٹی آف تربت فیزٹو نظرثانی شدہ منصوبے کے پی سی ون کی منظوری دے دی گئی ہے۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے یونیورسٹی آف تربت کی ترقی اور اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی مسلسل تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی بلوچستان میں سماجی و معاشی ترقی، نوجوانوں کو بااختیار بنانا، مقامی سطح پر مواقع میں اضافہ کرنا، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور علاقائی عدم مساوات کے خاتمے کے لیے تربت یونیورسٹی جیسے اداروں کا ترقی کرنااور مضبوط ہونا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔اس منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے ]سائنس و ٹیکنالوجی/آئی سی ٹی[پلاننگ کمیشن کے ممبر ڈاکٹر نجیب اللہ، ایس اینڈ ٹی کے سینیئر چیف ڈاکٹر گل محمد لغاری، ایم اینڈ ای کے ڈائریکٹرسید نوید شاہ، اور ہائرایجوکیشن کمیشن کے پی اینڈ ڈی کے ڈائریکٹر آصف حسین نے منصوبے کے بنیادی خدوخال، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور تعلیمی وتحقیقی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے علاوہ تدریسی و انتظامی صلاحیتوں پر جامع روشنی ڈالی۔طویل غور و خوض کے بعد سی ڈی ڈبلیو پی نے تربت یونیورسٹی کے نظرثانی شدہ پی سی ون کی مجموعی لاگت 1,930.33 ملین روپے کی منظوری دی۔ اس موقع پروفاقی وزیر نے اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی مسلسل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے تربت یونیورسٹی کے لیے اضافی فنڈز کا بھی اجراء کیا، جن میں طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے 1 کروڑ روپے، جدید ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کے لیے 2 کروڑ 30 لاکھ روپے اور نئے اکیڈمک بلاکس کی سولرائزیشن کے لیے 8 کروڑ روپے کے علاوہ لیبارٹری سامان کی خریداری کے لیے 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کے منصوبے شامل ہیں۔یہ فنڈزاورمنصوبے تربت یونیورسٹی میں تعلیمی سہولیات میں بہتری لانے، توانائی کے پائیدار استعمال کے فروغ اور طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے بلوچستان میں اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے مسلسل حمایت و تعاون جاری رکھنے پر وفاقی وزیر پروفیسراحسن اقبال، پلاننگ کمیشن کے سینئر حکام اور ایچ ای سی کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر احسن اقبال ایک ممتاز ماہر تعلیم اور تجربہ کار پالیسی ساز کی حیثیت سے ہمیشہ ملک بھر میں بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص اعلی تعلیم کی ترقی کے لیے پیش پیش رہے ہیں۔ تربت یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اکیڈمک اسٹاف ان کی مستقل سرپرستی اور تعاون کو قدر کہ نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فیز-ٹو منصوبے کی منظوری حکومت پاکستان کے اس مضبوط عزم کی عکاس ہے کہ وہ پسماندہ علاقوں میں معیاری اعلی تعلیم کوفروغ دینا چاہتی ہے۔ وائس چانسلر کا کہناتھاکہ ان اضافی منصوبوں اور مالی معاونت سے تربت یونیورسٹی کیطلبہ اور اساتذہ دونوں مستفید ہوں گے۔ آخر میں وائس چانسلر نے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کو یونیورسٹی آف تربت کے دورے اور فیز-ٹو کے تحت مکمل ہونے والی نئی عمارتوں کے افتتاح کی باضابطہ دعوت بھی دی۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک بھر کی جامعات کو مستحکم بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی کیونکہ یہی ادارے پاکستان کے سماجی و معاشی مستقبل کی تشکیل اور پائیدار قومی ترقی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔اس اہم کامیابی پر تربت یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران، انتظامی افسران اور عملے نے وائس چانسلرڈاکٹر گل حسن، پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر کمال بلوچ اور ان کی پروجیکٹ ٹیم کی انتھک محنت اور مسلسل کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہاکہ وائس چانسلرکی مثالی قیادت، پروجیکٹ ٹیم کی پیشہ ورانہ منصوبہ بندی اور مشترکہ کاوشوں نے فیزٹومنصوبے کی منظوری میں مرکزی کردار ادا کیاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں