کانکنی شعبے کو صنعت کا درجہ دینا معاشی استحکام، روزگار مواقع میں اضافے،معدنی وسائل کے موثر استعمال کی جانب اہم قدم ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پیر کو یہاں مائنز اونر ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی جس میں صوبے میں کانکنی کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے پر وفد نے صوبائی حکومت کے دوراندیش فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے خصوصی اظہارِ تشکر کیا۔ ملاقات میں چیمبر آف مائنز کے قیام، اراضی کی فراہمی، سرمایہ کاری کے مواقع اور مائننگ سیکٹر میں درپیش مسائل کے حل پر تفصیلی گفتگو ہوئی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کانکنی کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینا صوبے کے معاشی استحکام، روزگار کے مواقع میں اضافے اور معدنی وسائل کے موثر استعمال کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف ورکروں کو بہتر تحفظ اور فلاحی سہولیات حاصل ہوں گی بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی ایک مضبوط اور واضح پالیسی فریم ورک میسر آئے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مائننگ سیکٹر بلوچستان کی ترقی کا بنیادی ستون ہے اور حکومت اس شعبے میں شفافیت، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط ریگولیشن اور بین الاقوامی معیار کی نگرانی کا نظام متعارف کرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کاروں کو بلوچستان کے معدنی ذخائر تک رسائی دینے کے اقدامات جاری ہیں جس سے صوبے کی معیشت کو دیرپا تقویت ملے گی انہوں نے کہا کہ مزدوروں کی فلاح، ان کی ورکنگ کنڈیشنز کی بہتری، حفاظتی انتظامات، صحت و سلامتی کے معیار اور ریسکیو میکانزم کو مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ غیر قانونی کانکنی کی روک تھام، معدنیات کے تحفظ، اور مائننگ لیز کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کی جارہی ہے، جس کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے وفد نے چمالنگ اور دکی میں ورکرز کے لیے ریسکیو سینٹر قائم کرنے، شعبے میں اصلاحات، اور ورکروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات کو قابلِ ستائش قرار دیا اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کیا۔ وفد نے حکومت کی پالیسیاں “وقت کی ضرورت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے مائننگ سیکٹر میں اعتماد، استحکام اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا ملاقات میں صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی، رکن صوبائی اسمبلی پرنس آغا عمر احمد زئی، اے سی ایس داخلہ، سیکرٹری مائنز، ڈی جی مائنز اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں