کوئٹہ ( این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، ترجمان صدر آصف علی زرداری و صوبائی وزیر زراعت و کوآپریٹو میر علی حسن زہری نے کراچی میں منعقدہ 35 ویں نیشنل گیمز میں بلوچستان آرچری ایسوسی ایشن کی سنگین من مانیوں اور پسند نا پسند کی پالیسی اور منتخب کھلاڑیوں کی جگہ غیر منتخب کھلاڑیوں کو کراچی لے جانے اور کھلانے کی شدید مذمت کی ہے جس نے بلوچستان کو رسوا کر دیا۔ انہوں نے اپنے مذمتی بیان میں واقعہ میں متاثرہ کھلاڑیوں خصوصاً گرلز ٹیم کی کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ حق پر ہیں اور آپ کا حق چھیننے والوں سے ضرور حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سفارش اور اقرباء پروری نے بلوچستان کی کارکردگی کو تباہ کر دیاہے جس سے صوبے کا نام بدنام ہوا۔ متعلقہ حکام کوفوراً اسی وقت نوٹس لینے کی ضرورت تھی جو کہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے قابض بلوچستان آرچری ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر عہدیداروں کے خلاف تحقیقات اور کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور واقعہ کے اصل محرکات صوبائی اسمبلی میں پیش کئے جائیں گے۔ میر علی حسن زہری نے متاثرہ آرچری کھلاڑیوں کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ جس نے بھی انہیں ان کے حق سے محروم کیا وہ سب جوابدہ ہوں گے کہ کس حیثیت سے وہ من پسند کھلاڑیوں کو سلیکٹ نہ ہونے کے باوجود ٹیم کے ساتھ لے کر گئے اور منتخب کھلاڑیوں خصوصاً لڑکیوں کو مسلسل ذہنی ٹارچر کیاگیااور مقابلے کے عین وقت گھوسٹ کھلاڑیوں کو اصل کھلاڑیوں سے تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر بے حد افسوس اور دکھ کا اظہار کیا کہ خواتین کھلاڑیوں کو نہ تو ٹرانسپورٹ دی گئی اور نہ کھانے پینے کا کوئی انتظام کیا گیا جبکہ ایسوسی ایشن اپنے من پسند لوگوں کے ساتھ ہوٹلوں میں اچھنے کھانوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ منتخب کھلاڑیوں سے مسلسل ناروا سلوک رواں رکھا گیا۔ جو کھلاڑی ایچ ای سی کی ٹیم کو چھوڑ کر صرف اپنے صوبہ بلوچستان کے لئے ٹرائلز میں منتخب ہونے کے بعد کھیلنے کے لئے آیا اسے بھی ٹیم سے نکال دیا گیا۔ایسوسی ایشن کے اس عمل پر کھلاڑیوں کے استفسار اور احتجاج پر انہیں Ban کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان آرچری ایسوسی ایشن کی حد سے تجاوز کرنے اور من مانیاں، اقرباء پروری اور میرٹ کے برخلاف دشمن فیصلوں نے 35ویں نیشنل گیمز میں بلوچستان کا سر شرم سے جھکا دیا۔ 41 مرد کھلاڑیوں میں غیر منتخب نام نہاد بلوچستان کے نمائندوں نے 38 اور 39 ویں پوزیشنیں حاصل کیں، جبکہ خواتین کے مقابلوں میں 35 کھلاڑیوں میں سے بلوچستان نے 32 واں مقام حاصل کیاجو کہ سراسر نااہلی، اقرباء پروری اور میرٹ کے خلاف پالیسیاں بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ بلوچستان آرچری ایسوسی ایشن کا یہ رویہ صرف کھلاڑیوں نہیں بلکہ پورے صوبے کی توہین کا باعث بنا اور میرٹ کی دھجیاں اڑا کر صوبے کے نام کو ملکی سطح پر ذلیل کیا گیاجس سے ہر بلوچستانی کا سر شرم سے جھک گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور مشیر کھیل سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کی بیٹیوں کے ساتھ مذکورہ واقعہ کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

