کوئٹہ+اسلام آباد(این این آئی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا ہے کہ پی ایم ڈی سی کے تمام امور میں شفافیت اور بہتری کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ملک بھر کے میڈیکل طلبہ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور پاکستان میں صحت کی سہولیات کو عام اور معیاری بنایا جا سکے۔یہ بات انہوں نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات میں ملک میں طبی تعلیم، بلوچستان کے میڈیکل طلبہ کے لیے مواقع میں اضافہ اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ہاؤس جاب کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو بتایا کہ بلوچستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے سفارش کی کہ وزیراعظم پاکستان سے رابطہ کرتے ہوئے بلوچستان بھر کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہاں کے زیادہ سے زیادہ طلبہ میڈیکل تعلیم حاصل کر سکیں۔انہوں نے مزید تجویز پیش کی کہ اسلام آباد میں ہاؤس جاب کے لیے آنے والے بلوچستان کے ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کے لیے پمز، پولی کلینک اور دیگر سرکاری ہسپتالوں میں کم از کم 20 فیصد کوٹہ میں اضافہ کیا جائے۔ ساتھ ہی بلوچستان کے ان ڈاکٹروں سے یقین دہانی (Surety Bond) بھی لی جائے تاکہ وہ ہاؤس جاب مکمل کرنے کے بعد اپنے صوبے میں خدمات سرانجام دیں اور وہاں صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کو کم کرنے میں کردار ادا کریں۔پروفیسر رضوان تاج نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بلوچستان میں موجود میڈیکل کالجوں کی سیٹوں میں اضافہ ناگزیر ہے تاکہ صوبے کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کی جا سکیں اور نوجوانوں کو طب کے میدان میں زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے پی ایم ڈی سی صدر کی سفارشات کا خیر مقدم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ملک کا ایک اہم صوبہ ہے جہاں سہولیات محدود ہیں، اس لیے وہاں کے نوجوانوں اور عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ان کی ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ایم ڈی سی کے تمام امور میں شفافیت اور بہتری کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ملک بھر کے میڈیکل طلبہ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور پاکستان میں صحت کی سہولیات کو عام اور معیاری بنایا جا سکے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلوچستان کے لیے پمز میں 20 فیصد کوٹہ برائے میڈیکل طلبہ، 20 فیصد ہاؤس جاب کوٹہ برائے بلوچستان ڈاکٹرز اور پی جی شپ میں کوٹے کے اضافے سے صوبے کے صحت کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔

