بلوچستان کے غیر ترقیاتی اخراجات میں مسلسل اضافہ،ترقیاتی وسائل سکڑ رہے،صوبے کے وسائل میں اضافہ ناگزیر ہو چکا، وزیر اعلیٰ

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی ایڈوائزری کونسل کا تیسرا غیر معمولی اجلاس بدھ کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں صوبے میں ریونیو کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لئے اہم فیصلے کیے گئے اجلاس میں آڈٹ رولز، ڈیجیٹلائزیشن اور مختلف اصلاحاتی اقدامات کی باقاعدہ منظوری دی گئی اس موقع پر چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان نے اجلاس کو ریونیو اہداف کے حصول، جاری اقدامات اور کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ چالیس ارب روپے کے مقررہ سالانہ ہدف کا نصف حاصل کرلیا گیا ہے جبکہ مکمل اہداف کے حصول کیلئے تگ و دو جاری ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مقررہ ریونیو اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے فیلڈ آپریشنز کو مؤثر اور متحرک بنانے کی ہدایت کی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے غیر ترقیاتی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ترقیاتی وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں اس تناظر میں صوبے کے اپنے وسائل میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے انہوں نے زور دیا کہ ریونیو بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہوگی انہوں نے ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف اور خودکار بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے عملے کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے جدید تربیت فراہم کرنے اور ادارے کی فعالیت کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو، اجلاس میں ریونیو کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور صوبے کی مالی خودمختاری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ایڈوائزری کونسل کے اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، چیئرمین بلوچستان ریونیو اتھارٹی عبداللہ خان، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سید ظفر بخاری سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں