کوئٹہ(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری عالم خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان بورڈ کے رزلٹ پر سنجیدہ تحفظات، ری چیکنگ اور عدالتی تحقیقات ناگزیر ہو چکی ہیں بلوچستان میں پہلی بار امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام کے لیے مؤثر اور قابلِ ستائش کوششیں کی گئیں جس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ اب محنتی طلبا و طالبات اپنی قابلیت کی بنیاد پر آگے آئیں گے اور میرٹ کا بول بالا ہوگاتاہم رزلٹ کے اعلان سے قبل ہی افسوسناک اطلاعات سامنے آئیں کہ مخصوص افراد کو پیسوں کے عوض غیر معمولی نمبر دلوانے کی کوشش کی گئی جس سے محنتی طلبہ و طالبات کا اعتماد متزلزل ہوا ہے ان اطلاعات نے پورے نتائج کو متنازعہ بنا دیا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں عالم خان کاکڑ نے کہا کہ میرے خاندان کی طالبات اگرچہ اچھے نمبرز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں مگر اُنہوں نے امتحانی کاپیوں میں درج مارکس سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ری چیکنگ کی درخواست دی ہے جو محض ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ نظام کی شفافیت کی بحالی کے لیے ایک اصولی قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ حیران کن اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کنٹرولر امتحانات نے خود رزلٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور سنجیدہ نوعیت کے الزامات عائد کیے جنہیں یکسر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اگر ایک اعلیٰ سطحی افسر ہی رزلٹ سے لاتعلقی ظاہر کرے اور بدعنوانی کا اشارہ دے تو یہ مسئلہ معمولی نہیں بلکہ پورے سسٹم کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرتے ہی ں کہ پہلے 200 طلبا و طالبات (یا جن کے مارکس 90 فیصد سے زائد ہیں) کے پرچے فی الفور ری چیک کیے جائیں اور عوام کے سامنے رکھے جائیں جو طلبا و طالبات اپنے پرچے ری چیک کروانا چاہتے ہیں، انہیں بلا تاخیر اور شفاف طریقے سے سہولت فراہم کی جائے،کنٹرولر امتحانات کے الزامات کی آزاد، شفاف اور عدالتی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں،اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو متعلقہ ذمہ داران کو فوری طور پر برطرف کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کی جرات نہ ہو۔

