خضدار(این این آئی) بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے وائس چانسلر ڈاکٹر مقصود احمد سے آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بشیر احمد جتک کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں یونیورسٹی کے تعلیمی معیار، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور تکنیکی تعلیم کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد میں عبدالقدیر زہری، میر اشرف علی مینگل، خلیل احمد گرگناڑی عبداللہ شاہوانی اور حافظ بلال احمد مردوئی شامل تھے۔ملاقات میں وائس چانسلر نے وفد کو یونیورسٹی کے نظم و ضبط اور مستقبل کے اہداف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بی یو ای ٹی خضدار ایک سرکاری یونیورسٹی کے طور پر بلوچستان میں انجینئرنگ کی تعلیم فراہم کررہی ہے۔ یونیورسٹی کا پرسکون اور صاف ستھرا ماحول طلبہ کے لیئے تعلیم حاصل کرنے کے لیئے مثالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی مختلف شعبوں بشمول سول، الیکٹریکل، مکینیکل، اور کمپیوٹر سائنسز میں ڈگریاں پیش کرتی ہے، جو پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے منظور شدہ ہیں۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کا بنیادی مقصد بلوچستان کے طلبہ کو جدید تکنیکی تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کے جدید لیبارٹریز، لائبریری، اور ہاسٹل کی سہولیات کے بارے میں بھی تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے کہاکہ جامعہ ہذا سے بڑی تعداد میں انجینئرز تیار ہوکر ملک اور بیرونی ملک خدمات پیش کررہی ہیں۔ جب کہ اب بھی متعدد پروفیسرز پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں یونیورسٹی ریسرچ سمیت ہر شعبے میں بہتر انداز میں احسن انداز میں کام کررہی ہے یونیورسٹی کی پوری انتظامیہ ایک ٹیم کے طور پر کام کررہی ہے اور ہر ایک اپنے ڈومین میں رہ کر یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کے لئے کام کررہی ہے۔آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بشیر احمد جتک نے یونیورسٹی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ بی یو ای ٹی خضدار بلوچستان کے نوجوانوں کے لیئے ایک اہم تعلیمی مرکز ہے۔ ملاقات کے دوران وفد نے یونیورسٹی کے خوبصورت مقام، جو پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے، اور اس کے تعلیمی ماحول کی تعریف کی۔آخر میں، بشیر احمد جتک نے کہا کہ آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کے لیئے تیار ہے اور مستقبل میں بھی ایسی ملاقاتیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ تعلیمی اور سماجی مسائل کے حل کے لیئے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں۔ وائس چانسلر نے وفد کا شکریہ ادا کیا اور مستقبل میں مزید تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔

