کوئٹہ(این این آئی)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلیم منور کالونی ہزارہ ٹاون میں قائم شیر محمدمری پرائمری اسکول کو خالی کرانے کا نوٹس لے کیونکہ اسکول کی بندش سے 1200سے زائد بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کورکن صوبائی کونسل الیاس علی زاہدی،عزت اللہ کاظمی، ناصر حیدری،علی مدد حیدری اوردیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔کاشف حیدری نے کہا کہ ایک طرف بلوچستان حکومت نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے اور تعلیم کے شعبے کیلئے 145ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جس میں 19.8ارب اسکول ایجوکیشن اور28ارب روپے ابتدائی تا پرائمری ترقیاتی منصوبوں کیلئے رکھے گئے ہیں مگر اسکے باوجود بنیادی پرائمری اسکول کیلئے جگہ میسر نہیں ہے یہ تعلیم کے نام پر مذاق کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے علاقے منور کالونی ہزارہ ٹاون میں قائم شیر محمد مری پرائمری اسکول پرائیویٹ عمارت میں قائم ہے جس میں 1200سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں اور مالک اسکول نے عدالت کے ذریعے اسکول کی عمارت فوری طور پرخالی کرانے کا نوٹس دیا ہے جس کے بعد اسکول کی بندش سے 1200طلباء کا مستقبل خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی، وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی اورسیکرٹری تعلیم سے اپیل کی ہے کہ شیر محمد مری اسکول کیلئے فوری طورپر متبادل سرکاری عمارت کا بندوبست کیا جائے تاکہ بچوں کی تعلیم میں تعطل پیدانہ ہو اور محکمہ تعلیم مستقل بنیادوں پر اسکولوں کی عمارتوں اور منصوبہ بندی کے حوالے سے پالیسی تیار کرے تاکہ آئندہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پراسکول کیلئے متبادل عمارت کا بندوبست نہیں کیا تو بچوں اور والدین کے ساتھ ملکر احتجاج پر مجبور ہونگے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم پر عائد ہوگی

