یانگلنگ (این این آئی) چین میں تربیت حاصل کرنے والے پاکستانی زرعی ماہرین کا پہلا گروپ شانشی ایگری کلچر اینڈ فاریسٹری ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو گیا، جو بیلٹ اینڈ روڈ فریم ورک کے تحت پاک-چین زرعی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابقچین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ گریجویشن محض تعلیمی مرحلے کا اختتام نہیں بلکہ ”ارادے سے اثر“ کی جانب ایک پیش رفت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام وزیرِ اعظم پاکستان کے اْس وعدے کا حصہ ہے جس کے تحت 1000 پاکستانی زرعی ماہرین کو چین میں تربیت فراہم کی جانی ہے تاکہ پاکستان کو درپیش زرعی چیلنجز کو جدید علم اور عملی حلوں کے ذریعے دور کیا جا سکے۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق سفیر ہاشمی نے کہا یانگلنگ جو کہ چین میں زرعی جدت کا قومی مرکز ہے میں آپ کی تربیت نے آپ کو سمارٹ فارمنگ، بیجوں کی ٹیکنالوجی، اور زمین کے پائیدار استعمال کے جدید ترین شعبوں سے روشناس کیا۔ آپ صرف اسکالرز نہیں بلکہ تبدیلی کینمائندے بن کر جا رہے ہیں۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق انہوں نے یانگلنگ کالج کے شانشی ایگری کلچر اینڈ فاریسٹری ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں تبدیل ہونے کو سراہا، جو زرعی تعلیم کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار اور عزائم کا عکاس ہے۔ انہوں نے پروفیسر ڑونگ ویڑو کی قیادت اور شانشی فارن افیئرز آفس کے مسٹر گاؤ جن ڑیاؤ کی بھرپور حمایت کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق سفیر ہاشمی نے فارغ التحصیل طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنے علم کو مقصد کے ساتھ بروئے کار لائیں اور دوسروں کے لیے تحریک کا باعث بنیں۔ انہوں نے انہیں پاک-چین تعاون کے ایک “نئے، سبز، سمارٹ، اور عوام دوست” باب کا چہرہ قرار دیا۔انہوں نے کہا میں امید کرتا ہوں کہ یہ ماہرین اب نہ صرف علم بلکہ یانگلنگ کی زرعی جدت کی روح کے ساتھ تبدیلی کے نمائندے بن کر وطن واپس جائیں گے۔تقریبِ تقسیمِ اسناد نے زرعی جدت میں گہری ہوتی ہوئی پاک-چین شراکت داری کو اجاگر کیا، جو دونوں ممالک کی ترقیاتی حکمتِ عملیوں میں ایک مشترکہ ترجیح ہے۔

