اسلام آباد ( این این آئی)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان اور امریکہ دونوں ممالک کے لیے پاکستانی تارکین وطن کے تعاون کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کے فروغ میں ان کے اہم کردار کا اعتراف کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی سے ملاقات کی اور ممتاز پاکستانی نڑاد امریکیوں کے اجتماع سے خطاب کیا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستانی نڑاد امریکیوں کی یکجہتی ، حمایت اور کشمیری عوام کی آواز کو بلند کرنے میں ان کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔ نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے کمیونٹی کے اجتماع کو پاکستان کی معاشی بحالی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا کہ ملک نے آئی ایم ایف پروگرام کامیابی سے مکمل کیا ہے، مہنگائی میں نمایاں کمی کی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اشتراک بھی کیا کہ کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے حال ہی میں پاکستان کے بہتر میکرو اکنامک آؤٹ لک کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کی پاکستان کے لیے G-20 معیشتوں کی صف میں شامل ہونے کی خواہش کا اعادہ کیا۔نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سفارتی تنہائی کے دور سے نکلا ہے اور حالیہ اعلیٰ سطحی دوروں اور کثیر جہتی سفارت کاری کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر سرگرم عمل ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان کی موجودہ صدارت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو سالہ غیر مستقل رکنیت پر بھی روشنی ڈالی جو 182 ممالک کی حمایت سے حاصل کی گئی ہے اور پاکستان کی اصولی سفارتکاری پر عالمی برادری کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر اور فلسطین سمیت تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ علاقائی حرکیات کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے وسطی ایشیا تک ریل اور تجارتی راہداریوں کے ذریعے علاقائی رابطوں کو بڑھانے کے مقصد سے پڑوسی ملک افغانستان تک پاکستان کی رسائی پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کی اس توقع کا اظہار کیا کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلے میں افغان حکام کی جانب سے حالیہ یقین دہانیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کی بھی توثیق کی، آپریشن بنیان المرصوص کے دوران ملک کے مضبوط اور پرعزم ردعمل کا حوالہ دیا جس کی وجہ سے چھ بھارتی طیارے مار گرائے گئے۔ انہوں نے اس نازک لمحے کے دوران قوم اور تارکین وطن کی طرف سے اتحاد کے مظاہریکی تعریف کی۔نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کمیونٹی کو یقین دلایا کہ حکومت پی آئی اے کی پروازوں کی جلد از جلد بحالی کے لیے سرگرم عمل ہے جس میں بین الاقوامی ہوابازی کے معیارات کے مطابق یورپ اور برطانیہ کے لیے راستوں کی بحالی کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے حکومت کے کلیدی اقدامات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے خاص طور پر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے کردار پر بھی روشنی ڈالی جو سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو ہموار کرنے اور ترجیحی شعبوں میں مواقع کو کھولنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ انہوں نے تارکین وطن کو پاکستان کی ترقی، بالخصوص سرمایہ کاری، تجارت، تعلیم اور ڈیجیٹل اختراع میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے پاکستانی نڑاد امریکی تارکین وطن کو قومی ترقی کے ساتھ ساتھ باہمی طور پر فائدہ مند پاکستان امریکہ باہمی تعاون کو مضبوط بنانے میں اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر شامل کرنے کے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

