گوادر(این این آئی)پاک چائنہ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے طلباء نے گوادر پورٹ کا دورہ کیا جس میں گرین ہاؤس، ڈی سالینیشن پلانٹ اور پورٹ ایریا شامل تھے۔ اس دورے کی میزبانی چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی پاکستان (پرائیویٹ) نے کی۔ گوادر پرو کے مطابقگرین ہاؤس میں طلباء نے مصنوعی حالات جیسے درجہ حرارت، نمی اور روشنی کو کنٹرول کر کے پودے اگانے کے طریقے سیکھے تاکہ نشوونما کو بہتر بنایا جا سکے۔ بعد ازاں انہوں نے چین کی معاونت سے قائم گوادر کا ڈی سالینیشن پلانٹ کا بھی دورہ کیا جو 23 جولائی کو عملی طور پر کام شروع کر چکا ہے۔چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی (COPHC) پاکستان نے بتایا کہ فی الحال، ڈی سالینیشن پلانٹ روزانہ 200 ٹن پانی شہری علاقے کو فراہم کر رہا ہے جس سے گوادر کے تقریباً 40,000 افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی (سی او پی ایچ سی) پاکستان نے گوادر پرو کو بتایا کہ ڈی سالینیشن پلانٹ ریورس اوسموسیس(آر او) میمبرین ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، جسے دنیا میں پانی کی نمک نکاسی کے لیے سب سے مکمل اور مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے اور یہ کم توانائی خرچ کرنے کے لیے بھی جانا جاتا ہے،منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں، بلوچستان محکمہ ماحولیات کی جانب سے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ اور ڈیزائن ٹیم کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل جائزے نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس سے آس پاس کے سمندری ماحولیاتی نظام پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔ گوادر پرو کے مطابق گوادر پورٹ اتھارٹی (GPA) کے مطابق ڈی سالینیشن پلانٹ کی طے شدہ پیداواری صلاحیت روزانہ 5,000 ٹن ہے، جو بنیادی طور پر مقامی رہائشیوں کی تازہ پانی کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے اور مستقبل میں مقامی صنعتی ترقی کو بڑھانے کیلئے محدود مقدار میں استعمال کی جا سکتی ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چین کی معاونت سے قائم پاکستان-چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ نے مئی 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 6 بیچز میں 483 طلباء کو بھرتی کیا ہے، جن کے پروگرامز میں کمپیوٹر سائنس، ای-کامرس، فنانس اور اکاؤنٹنگ، پورٹ آپریشنز، اور موبائل فون کی مرمت شامل ہیں۔

