یومِ آزادی تجدیدِ عہد کا دن ہے، وطن کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا عزم کریں، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ہر برس 14 اگست کو ملک بھر میں یوم آزادی قومی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے لیکن 10 مئی 2025 کو بھارت سے جنگ جیتنے کے بعد 14 اگست 2025 کو منایا جانے والا یوم آزادی گزشتہ ایام آزادی سے زیادہ ولولہ انگیز رہا اس برس منائے جانے والے یوم آزادی میں بھارت سے جنگ جیتنے کا اعزاز بھی شامل رہا پاکستان نے گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ میں متعدد اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں ہم نے ترقی تو کی لیکن ہماری ترقی کی رفتار سست رہی پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکمران اور عوام مل کر انتھک محنت کریں تاکہ ملک سے غربت, ناخواندگی, بیماریوں اور دہشتگردی کے خاتمے میں کامیابی حاصل کی جا سکے پاکستان 25 کروڑ لوگوں کا جوہری صلاحیت رکھنے والا ملک ہے یوم آزادی کا دن تجدید عہد کا دن ہے. آگے بڑھنے کے لئے ہمیں اپنے ماضی کا جائزہ لینا ہوگا. ماضی میں جہاں جہاں ہم کوتاہیوں کے مرتکب ہوئے ہم نے ناقابل تلافی نقصان اٹھایا. ملک و قوم کو عظیم بنانے کے لئے ہر شخص کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ جن اقوام نے اپنی خامیوں پر قابو پایا اور دن رات محنت کی وہ آگے بڑھتی چلی گئیں اور جن اقوام نے مستقبل میں ممکنہ طور پر پیش آنے والے مسائل کا بروقت ادراک نہیں کیا وہ گھمبیرمسائل کا شکار ہوئیں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران چین نے حیرت انگیز طور پر ترقی کی ہے جبکہ ہم اقتصادی دباؤ سے باہر نہیں نکل سکے پاکستان گزشتہ دو برسوں میں شدید اقتصادی بحرانی صورتحال کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے میں کامیاب ہوا ہے پاکستان کو بھارت جیسے بد ترین دشمن کا سامنا ہے جو کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے بطور قوم ہمیں اقوام عالم میں وطن کا وقار بلند کرنا ہوگا پاک بھارت جنگ میں فتح یاب ہونے کے بعد پاکستان دشمن پر اپنی عسکری برتری اور مہارت کی دھاک بٹھانے میں کامیاب ہوا ہے ہمیں اقتصادی میدان میں استحکام پیدا کرتے ہوئے اپنی دھاک بٹھانی ہوگی تاکہ ملک سے بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور پاکستان اندرونی و بیرونی قرضوں کے بوجھ سے نجات پا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں