اسلام آباد(این این آئی)چیئرپرسن سینٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ تعلیم کے نام پر کسی بچے کو اذیت نہیں دی جانی چاہیے،ریاست کی اولین ذمہ داری بچوں کا تحفظ ہے، خواہ وہ اسکولوں میں ہوں یا مدارس میں۔سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق، جس کی صدارت سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کی، نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کے وفاقی و صوبائی حکام کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں مدارس میں بڑھتے ہوئے جسمانی سزا، تشدد اور جنسی استحصال کے واقعات اور ان کے تدارک کے لیے مدرسہ انتظامیہ و متعلقہ محکموں کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے زور دیا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری بچوں کا تحفظ ہے، خواہ وہ اسکولوں میں ہوں یا مدارس میں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مقصد جائز دینی اداروں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ بدسلوکی کا خاتمہ اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مدارس میں مؤثر رجسٹریشن، مالی شفافیت اور رسائی کا فقدان ہے۔ انہوں نے فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری حکام کی جانب سے مدارس کے باقاعدہ دورے، والدین اور اساتذہ کی لازمی شمولیت، جسمانی سزا پر پابندی کے لیے ایس او پیز کی تیاری، بچوں کے تحفظ اور ذہنی صحت کے حوالے سے اساتذہ کی تربیت، اور مالی رجسٹریشن کے تقاضوں پر سختی سے عمل درآمد شامل ہیں۔ انہوں نے رپورٹ ہونے والے کیسز میں نہایت کم سزا کی شرح پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جب تک مؤثر عدالتی کارروائی اور سزا کا نظام نہیں ہوگا، بدسلوکی کا سلسلہ نہیں ٹوٹے گا۔ اجلاس کے دوران سینیٹر ایمل ولی خان نے نشاندہی کی کہ کئی مدارس آہستہ آہستہ تعلیمی اداروں کے بجائے آمدن کے نظام میں بدلتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے جامع قانون سازی، مالی شفافیت اور مدارس کو مرکزی تعلیمی بورڈز کے تحت لانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جواب دہی قائم ہو اور متوازی اور بے قاعدہ طریقوں کا خاتمہ ہو۔ اراکین نے ضلعی سطح پر ہدایات، ہم آہنگ صوبائی قانون سازی اور واضح ریگولیٹری میکنزم کی سفارش بھی کی تاکہ بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔کمیٹی نے کامسیٹس یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کے خلاف اس کی مالی حالت اور مرحوم والد کے حوالے سے مبینہ توہین آمیز کلمات، محکمہ سربراہ کی جانب سے شکایات کو مسترد کرنے اور انتقامی نمبرنگ کے معاملے کو بھی زیرِ غور لایا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ واقعہ 19 جون کو کلاس پریزنٹیشن کے دوران پیش آیا جب طالبعلم اور استاد کے درمیان غلط فہمی شدت اختیار کر گئی۔ بعدازاں معاملہ سلجھا لیا گیا اور استاد نے خود طالبعلم کو لیپ ٹاپ فراہم کیا۔ اس کے باوجود کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ واقعہ گہرے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ کسی طالبعلم کو اس کی مالی حالت پر شرمندہ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ ایسے اقدامات جذباتی اذیت اور دیرپا نفسیاتی اثرات کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ معتبر جامعات میں برداشت اور ہمدردی کا ماحول پروان چڑھنا چاہیے اور اساتذہ کو طلبہ کے ساتھ حساسیت سے پیش آنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ چیئرپرسن نے مزید کہا کہ ڈسپلنری اقدامات کے ساتھ ساتھ جامعات اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو یقینی بنانا چاہیے کہ اساتذہ اور طلبہ دونوں کو باوقار مکالمے، برداشت اور ذہنی صحت کی آگاہی پر مبنی تربیت دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔کمیٹی کو وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے بیرونِ ملک قید پاکستانی شہریوں کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ قونصلر مداخلتیں، مشن سطح پر روابط اور ایف آئی اے کے ساتھ تعاون میں اسکریننگ کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی شہریوں کی مشکلات کم کی جا سکیں۔ وزارتِ خارجہ کے نمائندے نے قیدیوں کے تبادلے کے محدود معاہدات، میزبان ممالک کی خودمختاری، وسائل کی کمی اور دستاویزات کی خامیوں کو بڑے چیلنجز قرار دیا۔ وزارتِ داخلہ نے وضاحت کی کہ صرف ان ممالک کے ساتھ قیدیوں کی واپسی ممکن ہے جہاں معاہدے موجود ہیں اور حال ہی میں محدود پیمانے پر ترجیحی منتقلیاں کی گئی ہیں۔چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے محض یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات اور جواب دہی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کے حساب سے کیس لسٹ، مداخلتوں کا ریکارڈ اور عملی اقدامات کے شواہد فراہم کیے جائیں تاکہ ان پاکستانیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے جو طویل حراست میں ہیں۔ انہوں نے وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے اور فیڈرل محتسب کے درمیان بہتر ہم آہنگی، قونصلر رسائی میں بہتری، کیسز کی مؤثر ٹریکنگ اور واپسی کی شفاف رپورٹنگ پر زور دیا۔ چیئرپرسن نے مزید ہدایت دی کہ ایک قومی حکمتِ عملی مرتب کی جائے جس میں قانونی معاونت، قونصلر سپورٹ اور وطن واپسی پر بحالی کے لیے وقت مقرر اہداف شامل ہوں، اور اگلے اجلاس میں تفصیلی ایکشن پلان پیش کیا جائے۔اجلاس میں شریک ہونے والوں میں سینیٹر پونجو بھیل، سید مسرور احسن، ایمل ولی خان، خلیل طاہر، عطا الحق، قراۃ العین مری (آن لائن)، نیشنل کمیشن برائے ہیومن رائٹس (NCHR) کے چیئرپرسن، نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ (NCRC) کی چیئرپرسن، وزارتِ تعلیم اور وزارتِ اوورسیز پاکستانی کے جوائنٹ سیکرٹریز، وزارتِ خارجہ و داخلہ کے نمائندے، کامسیٹس یونیورسٹی کے نمائندے اور متعلقہ محکموں کے سینیئر حکام شامل تھے۔

