لورالائی(این این آئی) لورالائی میڈیکل کالج لورالائی میں پشتون کلچر ڈے کے حوالے سے شاندار انداز میں منایا گیا۔ تقریب میں طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے پرجوش شرکت کی اور پشتون ثقافت کے رنگوں کو خوبصورت انداز میں اجاگر کیا۔تقریب کے مہمانان خصوصی سابق ڈپٹی سپیکر سردار بابر موسی خیل تھے تقریب میں ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ فرزند ایم پی اے افضل خان اوتما نخیل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر عبدالحلیم اوتمانخیل سابق چیرمین ڈسٹرکٹ کونسل شمس حمزہ زئی میڈیکل کالج کے پرنسپل و دیگر محکموں کے آفیسران وعلاقے کے معتبرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی تقریب کے دوران کیک کاٹنے کی رسم بھی ادا کی گئی، جو پشتون ثقافت کی یکجہتی اور خوشیوں کی علامت تھی۔مقررین نے اپنے خطابات میں پشتون کلچر کی تاریخی اہمیت، روایات، اور اقدار پر روشنی ڈالی.اور کہا کہ پشتون ثقافت، بہادری، غیرت، مہمان نوازی، پشتونوالی، امن پسندی،محبت اور ایثار جیسی شاندار تاریخ سے عبارات ہے۔ ہماری ثقافت دنیا بھر میں اپنی الگ اور منفرد پہچان رکھتی ہے ہمارے آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ثقافت کو زندہ رکھیں اور اسے نئی نسل تک منتقل کریں تاکہ دنیا بھر میں پشتون قوم کی روایات اور اخلاقی اقدار کو مثبت انداز میں پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں جتنی بھی اقوام رہتی ہیں ان کی اپنی تاریخ ہے لہذا ہم سب کو چاہیے کہ ملک و صوبے کی تعمیر و ترقی کے لئے ہم سب کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چائیے یہ ملک ہے تو ہم ہیں ہماری پہچان پاکستان سے ہے ثقافت ایک تاریخی تسلسل ہے جسکے ذریعے ہمارا ماضی اور حال جڑا ہوا ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنے مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ارتقاء اور ترقی کا سفر جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے تو ماضی کی کئی چیزیں قصہ پارینہ بن جاتی ہیں. اور انسان نئے حالات، ضروریات اور تقاضوں کے مطابق نئی اقدار اور اشیاء کو اختیار کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ پشتون قوم بھائی چارہ، بردباری اور بشردوست کی مضبوط اور شاندار اقدار و روایات کا آمین ہے لہٰذا ضروری ہے پشتون کلچر کی تقریبات کے ذریعے اپنی مترقی سوچ اور شاندار اقدار کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں. ضروری ہے کہ ہم مختلف ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود امن، محبت اور یگانگت سے رہیں.انہوں نے کہا ہے کہ ثقافت ایک تاریخی تسلسل ہے جسکے ذریعے ہمارا ماضی اور حال جڑا ہوا ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنے مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ارتقاء اور ترقی کا سفر جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے تو ماضی کی کئی چیزیں قصہ پارینہ بن جاتی ہیں. اور انسان نئے حالات، ضروریات اور تقاضوں کے مطابق نئی اقدار اور اشیاء کو اختیار کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ پشتون قوم بھائی چارہ، بردباری اور بشردوست کی مضبوط اور شاندار اقدار و روایات کا آمین ہے لہٰذا ضروری ہے پشتون کلچر کی تقریبات کے ذریعے اپنی مترقی سوچ اور شاندار اقدار کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں. ضروری ہے کہ ہم مختلف ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود امن، محبت اور یگانگت سے رہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- جعفرآباد میں نامعلوم مسلح افراد ایک لاکھ روپے سے زائد نقدی،موٹرسائیکل اور موبائل فون چھین کرفرار
- شیخ زاہد ہسپتال کوئٹہ میں بیگم کلثوم نواز پیڈز کارڈیالوجی کا سنگ بنیاد رکھنا ایک نیک اقدام ہے،گورنر بلوچستان
- ٹی بی ایس کے قیام سے شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی بہتر ہو گی، نصراللہ زیرے
- صوبہ میں جاری بجلی کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے،چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکوکی ہدایت
- موجودہ عالمی و علاقائی حالات کے تناظر میں سیکیورٹی ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے،سیدال خان ناصر
- اربوں کا منصوبہ، چند فٹ کھدائی—مولہ آبپاشی اسکیم بدانتظامی کی نذر
- حکومت عوامی فلاح و بہبود کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی،کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی،پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت لہڑی
- وفاقی محتسب کے حکم پر درخواست گزار احمد ضیاء کو سن کوٹہ پر والد کی جگہ پر نوکری دلوا دی گئی
- وزیر تجارت جام کمال کا سینئر صحافی عزیز لاسی ودیگر کے ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے پر اظہارافسوس
- سابق صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی کا بلوچستان بار کونسل کے عہدیداروں کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر اظہارتشویش

