وفاقی وزیر حسن اقبال کا عائشہ باوانی اکیڈمی کا دورہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال نے عائشہ باوانی اکیڈمی کا دورہ کیا اس موقع پر ڈائریکٹر عائشہ باوانی اکیڈمی سید امداد حسین شاہ نے وفاقی وزیر کاپرتباک استقبال کیاجبکہ اسحاق باوانی الیاس باوانی احمد رؤف زکریا غفار بھی موجود تھے اس موقع پر ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا اس موقع پر ڈائریکٹر عائشہ باوانی اکیڈمی سید امداد حسین شاہ نے مہمان خصوصی کاعائشہ باوانی اکیڈمی میں ان کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا عائشہ با وانی اکیڈمی کے لیے فخر کی بات ہے یہاں سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے وفاقی وزیر احسن اقبال تشریف لائیں ہیں عائشہ باوانی عائشہ باوانی سے فارغ التحصیل بہت نامورافراد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پاکستان سمیت پوری دنیا بھرمیں خدمات انجام دے رہے ہیں اس اکیڈمی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی بہت خیال رکھا ہے اور جدید تقاضوں کے مطابق طلبہ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیاہے تقریب کے مہمان خصوص وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج مجھے بڑی خوشی محسوس ہورہی ہے کہ جس اسکول سے میں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی آج اس ہی اسکول میں زیر تعلیم طالب علموں سے خطاب کررہا ہوں یہ میرے لیئے نہیں اس اکیڈمی کے لیئے باعث افتخارہے ان استاتذہ کو سلام ہے جو کہ قوم کے مستقبل کے معماروں کو بناتے ہیں ان استاتذہ کی محنت ہوتی ہے جن قابلیت کی بنا پر طالب علم اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے ہیں میں آج جس مقام پر ہوں ان سہرا اس اکیڈمی اور اس کے استاتذہ کو جاتا ہے میں نے جماعت اول تا جماعت چہارم تک تعلیم اسی اکیڈمی سے حاصل کی، عائشہ باوانی ایک بہت بہترین درسگاہ ہے اور باوانی فیملی کی شعبہ تعلیم میں بہت بڑی خدمات ہیں تعلیم کے شعبے میں ہزاروں طلبہ کو علم کی شمع سے روشناس کرایا اور مجھ جیسے بہت سے طلباء دنیا میں اعلی مقام حاصل کر چکے ہیں جو طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں کل ان ہی میں سے کوئی وزیر بنے گا یہا ں میں ایک بات ضرور آپ کے گوش گزار کردوں کہ تعلیم کے شعبے میں ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اب بھی ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت پیچھے ہیں اب بقا اور مستقبل کی جنگ ہے جو کہ لیبارٹریز کے اندر لڑی جا رہی ہے نئی ایجاداد ہونی چاہیے تاکہ دنیا کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہو سکے۔مگر افسوس کے بات ہے آج کل تعلیمی ادارے روز گاز کا ذریعہ فراہم کرنے والے بن کر رہ گئے ہیں جو ہمارے مستقبل کے لیے سیاہ سائے کی طرح ہیں ایک جانب او لیول اور اے لیول نے ہمارے اپنے تعلیم نظام اور مستقبل معماروں بڑی ضرب لگائی عالم یہ کہ طلباء کو شیکزپیئر کا پتہ ہے مگر اپنے ہیزوز کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ہے تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی احسن اقبال کو سندھ کی روایتی اجرک کا تحفہ دیا گیا اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں