جیکب آباد (رپورٹر) انسانی حقوق کے کارکن کی شکایت پر سرکاری سکولوں کے لیے مختص اسپیسیفک فنڈز میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے تعلقہ ایجوکیشن آفیسر فیمیل اور میل کو ڈائریکٹر لاڑکانہ نے طلب کر لیا دفتری مراسلہ جاری رپورٹ کے مطابق چیکب آباد کے مختلف سرکاری اسکولوں کے لیے مختص اسپیسیفک فنڈز میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ضلعی ممبر اے ایس حفیظ جتوئی کی جانب سے تحریری شکایت پر سیکرٹری تعلیم سندھ کی طرف سے بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے مقرر تین رکنی کمیٹی کے چیئرمین اور ڈائریکٹر ایجوکیشن پرائمری لاڑکانہ خلیل احمد مہر نے بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے تعلقہ ایجوکیشن آفیسر پرائمری ٹھل نائلہ دایو اور تعلقہ ایجوکیشن آفیسر پرائمری جیکب آباد صدیق میرانی کو دفتری مراسلہ جاری کرتے ہوئے بروز پیر 17 نومبر اپنے دفتر لاڑکانہ طلب کر لیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ کرپشن کی تحقیقات سے بچنے کی کوششوں میں مصروف غمل تعلقہ ایجوکیشن آفسران کو ڈائریکٹر لاڑکانہ کی جانب سے جاری شدہ انکوائری کا مراسلہ ملنے کے بعد متعلقہ آفسران میں کلبلی مچ گئی ہے ۔ دوسری جانب رابطہ کرنے پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ضلعی ممبر اے ایس حفیظ جتوئی نے کہا کہ بطور انسانی حقوق کے کارکن اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے سرکاری اسکولوں کے اسپیسفک فنڈ میں ہونے والی کرپشن کے خلاف آواز حق بلند کیا ہے اب یہ محکمہ تعلیم کے بالا حکام اور مقرر کمیٹی چیئرمین کا کڑا امتحان ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ اور شفافیت پر مبنی تحقیقات کر کے کرپشن میں ملوث آفسران کو سزا دے کر صحت مند تعلیمی سرگرمیوں سے محروم طلب و طالبات کے ساتھ انصاف کریں ۔

