پشاور (رپورٹر)یہ صرف پشاور یونیورسٹی کا مسئلہ نہیں، پورے پاکستان کی جامعات اس وقت اسی چیلنج سے دوچار ہیں، اس سال کئی یونیورسٹیوں نے کھلے عام اعتراف کیا کہ انہیں نئے داخلوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور وجہ بالکل واضح ہے دنیا 2025 میں ہے، مگر ہماری یونیورسٹیاں اور ان کا نظام اب بھی 1980 کی دہائی میں سانس لے رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب یونیورسٹی کی ڈگری ہونا روزگار کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا، لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے، آج صرف ڈگری نہیں، قابلیت، ہنر، اور عملی تجربہ نوکری کی ضمانت ہیں۔
مگر ہماری یونیورسٹیوں نے کبھی یہ سوال سنجیدگی سے نہیں لیا کہ ہم جو ڈگریاں بانٹ رہے ہیں، ان کا طالب علم کرے گا کیا؟ اور ہمارے ہاں سے نکل کر اسے نوکری ملے گی بھی یا نہیں؟ نتیجہ یہ نکلا کہ بے روزگاروں کی ایک کے بعد دوسری کھیپ پیدا ہوتی گئی جس نے نوجوانوں میں تعلیم سے مایوسی اور بد دلی پیدا کی۔
ہماری کوئی یونیورسٹی آج تک یہ اعدادوشمار فراہم نہیں کر سکتی کہ اس کے کتنے طلبہ گریجویشن کے بعد نوکری حاصل کر سکے، کتنوں نے آگے تعلیم جاری رکھی، اور کتنے بے روزگار ہیں، یہ عدم شفافیت اور غفلت کا آئینہ ہے۔
دنیا کی ترقی یافتہ یونیورسٹیاں اپنے طلبہ کے روزگار، تحقیق اور صنعتی روابط کو فخر سے ظاہر کرتی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں یونیورسٹیوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے فارغ التحصیل طلبہ کہاں کھڑے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم بی ایس فزکس کرتا ہے تو اس کے بعد وہ کیا کرے گا؟ کیا خود وہ یونیورسٹی،جو یہ ڈگری آفر کر رہی ہے، اس سوال کا جواب دے سکتی ہے؟
کیا بی ایس فزکس کے بعد جو نوجوان تیار ہوتا ہے وہ پاکستان کی کسی انڈسٹری کی ڈیمانڈ پوری کرتا ہے؟ کیا وہ اتنا قابل ہے کہ باہر جا کر اپنا ہنر بیچ کر کچھ کما سکے اپنے لئے؟
نہیں!
کیونکہ انہوں نے کبھی اس زاویے سے سوچا ہی نہیں کہ ڈگری کا مطلب صرف کلاس روم نہیں، مستقبل بھی ہے، ڈگری کا مطلب صرف طلبہ سے فیسیں اکٹھی کر کے اساتذہ کی تنخواہین دینا ہی نہیں ہے بلکہ طلبہ کو بھی ایک روشن اور تابناک مستقبل دینا ہے۔
ابھی کچھ دن پہلے پاکستان کی ٹاپ کی انجینئرنگ یونیورسٹی کے ایسیوسی ایٹ پروفیسر صاحب سے ملاقات ہوئی اور ہر دوسری بات انہوں نے یہی کی کہ بس مجھے یہاں سے باہر جانے کا راستہ دکھا دیں میں باہر جانے کی کوشش میں ہوں۔
اب جہاں تک میں جانتا ہوں اس پورے ڈیپارٹمنٹ میں صرف وہی ایک بندہ کام کا ہے وہ بھی نکل جائے گا تو؟
پاکستانی یونیورسٹیوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ڈگری فروخت کرنے والے ادارے بن چکے ہیں، نہ کہ علم، تحقیق یا ہنر کے مراکز، ان کی عمارتیں تو بڑی ہیں، مگر وژن چھوٹا ہے، ان کے نصاب پرانی کتابوں سے چپکے ہوئے ہیں، ان کے اساتذہ تحقیق سے دور، اور ان کے طلبہ ایک ایسے نظام کا شکار ہیں جو ان کے خوابوں سے ہم آہنگ ہی نہیں۔
اوپر سے ہمارا جو یونیورسٹیوں کا فائنانشل ماڈل ہے وہ فیل ہو چکا ہے، جس میں حکومتی امداد اور طلبہ سے فیسیں اکٹھی کر کے آگے اساتذہ کی تنخواہیں جاری کی جاتی ہیں لیکن دنیا بھر میں یونیورسٹیاں اپنے اثاثے بناتی ہیں ، تعلیمی تحقیق اور ایجادات کی شکل میں 2 سال پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں یونویرسٹی نے 15 بلین پاؤنڈ کا حکومت کو فائدہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ہماری کوئی یونیورسٹی شائد پندرہ روپے کا فائدہ دینے کا نہیں سوچ سکتی، اور نا کبھی یہ سوچنے کی کوشش کی گئی کہ اس کو بہتر کیسے بنایا جا سکے؟
اگر آج بھی ہم نے اپنی سمت درست نہ کی تو آنے والے برسوں میں یونیورسٹیوں کے شعبے نہیں، خود یونیورسٹیاں بند ہونے لگیں گی۔

