کراچی (این این آئی) سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام اسلام آباد کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے 46ویں ایچ ای سی آل پاکستان انٹرورسٹی وومین ٹینس چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب کا انعقاد نیا ناظم آباد جیم خانہ میں کیاگیا۔ٹینس سنگلز کے مقابلوں میں لاہور یونیورسٹی کی شینزانے پہلا انعام اپنے نام کیا، دوسرے نمبر پر لاہور یونیورسٹی کی راحت العین اور تیسرے نمبر پر پنجاب یونیورسٹی کی سپنا رہیں۔ ٹینس ڈبلز کیٹیگری میں لاہور یونیورسٹی کی راحت العین اور شینزاکی ٹیم نے پہلا انعام اپنے نام کیا، لاہور کالج فار وومین کی ا نزل اور آسیہ نے دوسری اور پنجاب یونیورسٹی کی ثانیہ اور سپنا نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔پہلی پوزیشن پر یونیورسٹی آف لاہور کو ٹرافی دی گئی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی اور لاہور کالج برائے خواتین نے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن کے لیے ٹرافی حاصل کی۔ سرسید یونیورسٹی کے چانسلر محمد اکبر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ سرسید یونیورسٹی واحد یونیورسٹی ہے جو طلبا کوکھیلوں میں بہترین کارکردگی دکھانے پر مکمل اسکالرشپ فراہم کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کھیلوں میں ٹیلنٹ کو پروان چڑھانا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ تعلیمی میدان میں کامیابی حاصل کرنا۔ہم ایسے ماحول کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں جہاں نوجوان دونوں شعبوں میں یکساں ترقی کر سکیں۔ سرسید یونیورسٹی اسپورٹس اور تعلیم کو فروغ دینے کے حوالے سے ایک رجحان ساز ادارہ ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی کامیابیاں محنت اور ثابت قدمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ کامیابیاں سرسید یونیورسٹی کے سازگار ماحول اور آپ کے غیر متزلزل عزم اور ہنر کو اجاگر کرتی ہیں۔ ذاکر علی خان فانڈیشن کی چیئرپرسن، محترمہ ارم اکبر علی نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ٹینس کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔نوجوان اس کھیل میں بڑی دلچسپی لے رہے ہیں۔اگر نوجوان کھلاڑیوں کو مناسب تربیت اور رہنمائی فراہم کی جائے تو یہ بین الاقوامی مقابلوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔کھیل قوموں کے ساتھ دلوں کو بھی جوڑتے ہیں۔کھیلوں کے فروغ کے لیے سرسید یونیورسٹی ہر سطح پر مکمل تعاون فراہم کرتی ہے اور کرتی رہے گی اور سرسید یونیورسٹی گراس روٹ لیول پر کھیلوں کے فروغ کے لیے اہم ونمایاں کردار ادا کررہی ہے۔ملک میں ٹینس کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے لیکن اس ٹیلنٹ سے بھرپور استفادہ کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔حکومتی اور فیڈریشن کی سطح پر زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ پاکستان ٹینس فیڈریشن کے نائب صدر خالد رحمانی نے نوجوانوں کی نچلی سطح پر تربیت کی اہمیت پر زور دیا اورسرسید یونیورسٹی میں ٹینس کورٹس بنانے کی سفارش کی۔ اس موقع پر انہوں نے انجینئر ذاکر علی خان کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر اور کامیابی میں محترم ذاکر علی خان کی کوششوں اور کاوشوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے، رجسٹرارکموڈور(ر)سید سرفراز علی، ستارہ امتیاز (ملٹری)نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی ایک ٹرینڈ سیٹر ہے، جس نے پہلی بار ٹینس چیمپئن شپ کا انعقاد کیا ہے۔ میں اس یادگار تقریب کا حصہ بننے کے لیے آپ میں سے ہر ایک کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ اس طرح کے ایونٹس کا انعقاد کھلاڑیوں کی نئی نسل کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا اور ٹیم ورک اور اسپورٹس کی اقدار کو فروغ دے گا۔ تقریب میں ڈاکٹر جعفر نذیر عثمانی، طارق سبزواری، نفیس ربانی، ڈاکٹر کاشف شیخ، محسن خان، فہد فاروقی، اولمپیئن سمیر حسین، صمد حبیب، سید محمد طلحہ،سعید احمد، نعمان الدین، اور دیگر نامور شخصیات نے شرکت کی۔

