پیپاکا ملک میں تعلیمی بہتری،آؤٹ آف سکول بچوں کی تعلیمی دھارے میں شمولیت کیلئے فوری پالیسی سطح پر اصلاحات کا مطالبہ

کوئٹہ(این این آئی)ملک بھر میں نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیم پاکستان الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز (پیپا) کے رہنماوں شیخ محمد اکرم،عقیل رزاق، ملک خالد محمود، جاوید نور تامبڑا،سید طارق شاہ، جمیل نجم، انور علی بھٹی، محمد نواز پندرانی، لیاقت علی ہزارہ، ملک عمران،خواجہ عبد الحنان، اکرام الدین،چوہدری محمد اقبال، محمد آصف و دیگرنے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں تعلیم کی بہتری اور اڑھائی کروڑ آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی دھارے میں واپس لانے کے لیے فوری طور پر پالیسی سطح پر اصلاحات کی جائیں اور پاکستان الائنس اف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز (پیپا) کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کئے جائیں۔یہ بات انہوں نے یہاں پرائیویٹ اسکولوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں پرائیویٹ اسکولز تعلیم کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں ان پرائیویٹ اداروں کے جائز مسائل حل کرنے کیلئے حکومت فوری طورپر اقدامات کرے تاکہ وہ مزید بہترطریقے سے بچوں کو تعلیم دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی درجہ بندی فیس کی بنیاد پر کی جائے کم فیس لینے والے نجی تعلیمی اداروں کو فلاحی ادارے تسلیم کیا جائے،وفاق اور صوبوں میں پالیسی سازی اور انتظامی امور سے متعلق اداروں میں پرائیویٹ اسکولز اور کالجز کی نمائندہ تنظیموں کو متناسب نمائندگی دی جائے۔کم فیس لینے والے اداروں کو حکومتی تعلیمی بجٹ میں شامل کیا جائے تا کہ وہ اپنے ادارے میں 19 فیصد حقدار طلباء وطالبا ت کو معیاری اور مفت تعلیم فراہم کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں میں جبری و یکسی نیشن کروانے کی بجائے حکومت گھر گھر جا کر اس مہم کو سر انجام دے تاکہ سکول اور والدین انتظامی اور قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رہیں۔انہوں نے کہا کہ کم فیس میں معیاری تعلیم فراہم کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کو کمر شلائزیشن فیس سے مشتنی قرار دیا جائے،نجی تعلیمی ادارے اڑھائی کروڑ آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے حکومت کی مکمل معاونت کرنے کو تیار ہیں تاہم اس قومی مقصد کے حصول کے لیے حکومت نجی سیکٹر کو مناسب سہولیات اور مراعات فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان، خصوصاً صوبہ بلوچستان میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کا طریقہ کار سادہ اور آسان بنایا جائے،پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ڈویژنل سطح پر مزید دونئے تعلیمی بورڈز قائم کیے جائیں تاکہ انتظامی امور میں آسانی ہو، پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں انتظامیہ کی روزمرہ کے امور میں حکومتی مداخلت کو مکمل طور پر بند کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں