لاہور(این این آئی) کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی 45ویں سالانہ انٹرنیشنل سائنٹیفک کانفرنس کے اختتام پر ایک پروقار ڈنر گالا منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے صوبائی وزیر کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر یونیورسٹی انتظامیہ اور منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں بین المذاہب ہم آہنگی کے ماحول کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ آج اس تقریب کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز ہے ہم سب ایک خاندان کی مانند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور یہاں زیرِ تعلیم طلبہ ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، جنہیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف قومی اثاثہ سمجھتی ہیں۔ حکومتِ پنجاب جدید تعلیم، تحقیق اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے پُرعزم ہے۔سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی طبی تعلیم اور تحقیق کا ایک تاریخی ادارہ ہے اور یہاں کے طلبہ و نوجوان محققین پاکستان کا روشن مستقبل ہیں، جن پر حکومت بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ضروری ہے، مگر کردار آپ کی اصل پہچان ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں واضح کیا تھا کہ اقلیتیں ہمارا فخر ہیں۔ پاکستان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے جہاں ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے اور امن کا پیغام دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعض اوقات یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو حقوق حاصل نہیں، حالانکہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو برابر کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ طلبہ بیرونِ ملک پاکستان کے سفیر ہوتے ہیں اور ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرتے ہیں۔سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اقلیتوں کو سر کا تاج قرار دیتی ہیں اور حکومت نے یہ بات عملی طور پر ثابت بھی کر کے دکھائی ہے۔ انہوں نے حالیہ کرسمس تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار مال روڈ پر آٹھ کلومیٹر طویل ریلی نکالی گئی، جس سے دنیا نے پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پرانا پاکستان ختم ہو چکا ہے، وزیراعلیٰ کا واضح مؤقف ہے کہ اقلیتوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ایک طرف پاکستان کا وزیرِ اعظم اور پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ امن اور ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب خود کو سیکولر کہنے والے ملک میں پیش آنے والے واقعات نے وہاں کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نہ صرف اقلیتیں محفوظ ہیں بلکہ ان کی خوشیوں میں بھی ریاست شریک ہوتی ہے۔ اقلیتیں پاکستان میں اپنی مذہبی رسومات اور تہوار مکمل آزادی کے ساتھ منا رہی ہیں، جو ایک پُرامن اور ہم آہنگ معاشرے کی روشن مثال ہے۔

