سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز 176 ویں اجلاس میں مختلف شعبوں میں سات پی ایچ ڈی ڈگریوں کی منظوری

حیدرآباد (این این آئی)سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز 176 ویں اجلاس میں مختلف شعبوں میں سات پی ایچ ڈی ڈگریوں کی منظوری دے دی گئی، اجلاس وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال کی زیر صدارت ہوا، جبکہ ایجنڈا آئٹمز ڈاکٹر عبدالمبین لودھی، ڈائریکٹر بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز کی جانب سے پیش کئے گئے، منظور شدہ اسکالرز میں شعبہ پلانٹ پیتھالوجی سے مس نرگس شاہ شامل ہیں، جن کی تحقیق سندھ میں کپاس کی لیف کرل بیماری کے مربوط تدارک سے متعلق ہے۔ اسی شعبے کے محمد وریس کو پیاز میں بعد از برداشت بلیو مولڈ سڑن اور اس کے مربوط تدارک پر تحقیق کے لیے پی ایچ ڈی کی منظوری دی گئی، جبکہ عدنان کی تحقیق بلوچستان میں ہائی پلاسٹک ٹنلز کے تحت کھیرے میں فیوزیریم ولٹ کی تحقیق اور تدارک سے متعلق ہے، بورڈ نے شعبہ ویٹرنری فزیالوجی اینڈ بایو کیمسٹری کے اویس بن شاہد کی پی ایچ ڈی ڈگری بھی منظور کی، جن کی تحقیق بکریوں میں کنسنٹریٹ خوراک کے باعث پیدا ہونے والے رمین ایپی تھیلیل زخموں کے خلاف غذائی سیلینیم سپلیمنٹیشن کے اثرات پر مبنی ہے، شعبہ اینیمل پروڈکٹ ٹیکنالوجی کے جے پرکاش گوئل کی تحقیق دودھ اور پنیر کے معیار پر کیپا کیسین کے جینیاتی تغیرات کے اثرات سے متعلق ہے، شعبہ اینٹومولوجی کے غلام سرور کمبوہ کو ٹماٹر میں فروٹ بورر کے تدارک پر تحقیق کے لئے پی ایچ ڈی کی منظوری دی گئی، جبکہ شعبہ پلانٹ پروٹیکشن کے نبیل اختر کی تحقیق مرچ کی نرسری سے وابستہ اہم فنجائی امراض کی درجہ بندی، بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت اور تدارک سے متعلق ہے۔وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے اسکالرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ایچ ڈی ڈگریوں کی منظوری امیدواروں کی محنت اور اساتذہ و سپروائزرز کی پیشہ ورانہ رہنمائی کا مظہر ہے، انہوں نے کہا کہ پی ایچ ڈی محض ایک تعلیمی سند نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے، جس کے تحت اسکالرز کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی تحقیق سے صوبے، ملک، کسانوں اور عام عوام کو عملی فائدہ پہنچے، وی سی نے کہا کہ کپاس کی لیف کرل بیماری اور پیاز میں بعد از برداشت نقصانات پر تحقیق سندھ کی اہم فصلوں کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے، جبکہ پلاسٹک ٹنلز میں کھیرا کی بیماریوں پر تحقیق خشک علاقوں میں محفوظ زراعت کے فروغ میں معاون ثابت ہو گی، انہوں نے کہا کہ بکریوں میں سیلینیم سپلیمنٹیشن پر تحقیق مویشیوں کی صحت اور پیداوار بہتر بنانے میں مدد دے گی، جبکہ دودھ اور پنیر کے معیار سے متعلق جینیاتی تحقیق ڈیری سیکٹر کو مضبوط کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹماٹر فروٹ بورر اور مرچ کی نرسری میں فنجائی امراض کے مثر تدارک سے کاشت کاروں کے نقصانات میں کمی اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہو گا۔اجلاس میں ڈین فیکلٹی آف کراپ پروڈکشن ڈاکٹر عنایت اللہ راجپر، ڈین فیکلٹی آف اینیمل ہسبنڈری اینڈ ویٹرنری سائنسز ڈاکٹر غیاث الدین شاہ راشدی، ڈین فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن و ڈائریکٹر ایڈوانسڈ اسٹڈیز ڈاکٹر عبدالمبین لودھی، ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر منیر احمد منگریو، کنٹرولر امتحانات ریاست علی کبر کے علاوہ مختلف شعبہ جات کے سربراہان، سپر وائزرز اور دیگر ارکان نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں