پشاور(این این آئی)وزیر برائے اعلی تعلیم و بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی نے نئے سال کے آغاز پر ایک اہم اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ کمیشن کو 2024 کے بعد مکمل طور پر فعال کر دیا جس کے تحت کمیشن کی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیاہے۔اس سلسلے میں خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ کمیشن کا پہلا اجلاس چیئرمین کمیشن و وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیشن کے تمام اراکین بشمول ممبر احمد کریم کنڈی نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ویلج کونسل متر واڑی، اپر دیر کے چیئرمین سے متعلق کریمنل کیسز پر مشتمل ایک ایجنڈا پوائنٹ پر تفصیلی بحث کی گئی۔ کمیشن نے فیصلہ کیا کہ مذکورہ چیئرمین سے متعلق کریمنل کیسز پر محکمہ بلدیات کے تحت باقاعدہ انکوائری شروع کی جائے گی، جبکہ آئندہ اجلاس میں انکوائری مکمل کرکے رپورٹ کمیشن کے سامنے پیش کی جائے گی۔اسی طرح اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ افغان باشندوں کو برتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے معاملے پر ایک ویلج کونسل چیئرمین اور سیکرٹری کو ذاتی حیثیت میں کمیشن کے روبرو طلب کیا جائے گا۔ مزید برآں ویلج کونسل چیئرمین دوبندی، ملاکنڈ کی مسلسل غیرحاضری کی بنیاد پر چیئرمین شپ سے ہٹانے کے معاملے پر متعلقہ ویلج کونسل چیئرمین، سیکرٹری اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں تحصیل ناظم انعام اللہ خان سے متعلق عدالتی فیصلے کی توثیق بھی کر دی گئی۔ چیئرمین کمیشن مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ پورے سال کے لیے لوکل گورنمنٹ کمیشن کے اجلاسوں کا باقاعدہ ٹائم ٹیبل جاری کیا جائے تاکہ کمیشن کے اجلاس تسلسل کے ساتھ منعقد ہو سکیں۔اس موقع پر وزیر بلدیات مینا خان افریدی نے کہا کہ اب لوکل گورنمنٹ کمیشن کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی ہر صورت ممکن بنائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط، شفاف اور مؤثر بنا کر عوام کو براہ راست فائدہ پہنچایا جائے گا۔

