کوئٹہ(این این آئی)بلڈنگ ریسورسز فار انوویشن، ڈیجیٹل گروتھ اینڈ ایمپاورمنٹ (BRIDGE)”منصوبے کی افتتاحی تقریب یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) لاہورمیں منعقد ہوئی۔منصوبے میں پاکستان کی چھ جامعات BUITEMS کوئٹہ، UET لاہور، این ای ڈی UET کراچی، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، پاک آسٹریا فاخ ہوخشولے انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز ٹیکسلا، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت،یورپ کے دو شراکت دار ادارے (ڈبلن سٹی یونیورسٹی، آئرلینڈ اور نیشنل ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ایتھنز، یونان) اور پاکستان انجینئرنگ کونسل شامل ہیں، جو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل اور انٹرپرینیورشپ کیفروغ کے لیے مل کر کام کریں گے۔تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سمیت پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS)، ڈاکٹر ناصر حیات پرو وائس چانسلر UET لاہور، پروفیسر ڈاکٹر محمد مجاہد ریکٹر PAF IAST پاک آسٹریا فاخ ہوخشولے ہری پور، انجینئر وسیم نذیر چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل اور جامعات کی BRIDGE پراجیکٹ ٹیمیں شامل تھیں جبکہ بیوٹمز کی جانب سیڈاکٹر عنایت اللہ (پراجیکٹ مینیجر)،ڈاکٹر عبدالوحیدترین اور ڈاکٹر ولید حسنی شامل تھے۔دو روزہ اجلاس میں منصوبے کے مقاصد، ٹائم لائن اور باہمی اشتراک کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اس منصوبہ کے تحت پاکستان میں ڈیجیٹل اور دیگر ٹیکنالوجیز کے شعبہ جات میں تعلیمی و تربیت اور صنعتی ضروریات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کے لیے حکمت عملی مرتب کی جائے گی اور سائبر فزیکل سسٹمز، ہیلتھ کیئر، اسمارٹ مینوفیکچرنگ، ایج کمپیوٹنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ہیومن سینٹرڈ روبوٹکس اور ایکسٹینڈڈ ریئلٹی جیسے جدید ٹیکنالوجی شعبوں میں خصوصی بوٹ کیمپس منعقد کیے جائیں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینیجمنٹ سائنسز نے اس منصوبے کو پاکستان بالخصوص بلوچستان کے تعلیمی منظر میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے شعبے میں خلا پر کرنے اور جدیدتعلیم وتربیت اورصنعتی ضروریات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے میں خاطر خواہ مدد میسر آئے گی انہوں نے کہا کہ طلباء کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدید علوم سے آراستہ کرنا ہوگا جو اس منصوبہ کے ذریعے ممکن ہو سکے گا۔ منصوبے کی مدت کے دوران 10,150 افراد جن میں 4,340 خواتین شامل ہیں مستفید ہوں گے، جن میں 4,200 گریجویٹس جن میں 1,260 خواتین، 250 سے زائد اساتذہ، 2,100 پروفیشنلز اور 3,600 دیگر افراد (جن میں 1,800 اسکول کی طالبات) شامل ہوں گے۔

