کوئٹہ،دو تعلیمی اداروں میں نصب رین واٹر ہاروسٹنگ سسٹم کے ذریعے زیر زمین پانی کی ری چارجنگ کا عمل شروع

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان میں حالیہ برسوں کی شدید ترین خشک سالی کے دوران کوئٹہ کے دو بڑے تعلیمی اداروں میں نصب کیے گئے رین واٹر ہاروسٹنگ سسٹم کے ذریعے کامیابی سے زیر زمین پانی کی ری چارج کا عمل شروع کردیا گیا۔ انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی کنٹری ریپریزنٹیٹو ڈاکٹر محمد ارشد، شمشیر شاہ اور معیز شہزاد نے بتایا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر دباؤ اور بڑھتے بحران کے پیشِ نظر، انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) نے یورپی یونین کے تعاون سے جاری ریوائیول آف بلوچستان واٹر ریسورسز پروگرام (RBWRP) کے تحت بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) اور بلوچستان ایگریکلچر کالج میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور زیرِ زمین پانی ری چارج کرنے کے لیے رین واٹر ہاروسٹنگ سسٹم قائم کیے جن کے تحت دسمبر 2025 کی بارشوں کے دوران بیوٹمز میں قائم ٹینک مکمل طور پر بھر گئے اور زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ کا عمل شروع ہوا جس سے 4 مکعب میٹر پانی زیرِ زمین آبی ذخیرے میں منتقل ہوا، جبکہ پانی کے معیار کے ٹیسٹ میں ٹوٹل ڈیزالوڈ سالڈز (TDS) کی مقدار 155 پی پی ایم ریکارڈ ہوئی جو محفوظ ری چارج کے معیار پر پورا اترتی ہے۔اسی دوران بلوچستان ایگریکلچر کالج میں بارش کے نتیجے میں 2 لاکھ 86 ہزار 500 لیٹر گنجائش والا ذخیرہ تالاب بھر گیا، جبکہ اضافی پانی سے تقریباً ڈیڑھ مکعب میٹر زیرِ زمین پانی ری چارج ہوا، جو بڑے ذخیرہ نظام کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بیوٹمز میں اوور ہیڈ ٹینک کے اوور فلو پانی کو بھی ذخیرہ کر کے باغبانی کے مقاصد کے لیے باقاعدگی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد بارش کے پانی کو ادارہ جاتی اور باغبانی کے استعمال میں لانا اور ساتھ ہی زیرِ زمین پانی کے کم ہوتے ذخائر کو بحال کرنا ہے، جو خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پائیدار آبی نظم و نسق کا مؤثر حل فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دسمبر کی بارشوں نے ان نظاموں کی عملی افادیت ثابت کر دی ہے، جنہیں بلوچستان کے دیگر خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں بھی نافذ کر کے پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں