کراچی(اسٹاف رپورٹر)کتابیں پڑھنا زندگی میں مصنفین کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہیں اگر آپ لکھنا چاہتے ہیں تو لائبریری کے ساتھ تعلق قائم کریں کیوں کہ جو لوگ پڑھتے ہیں وہ آگے بڑھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہارسوسائٹی فار پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریرین (اسپرل)کے صدر اکرام الحق نے آدم جی کالج کے آڈیٹوریم میں منعقدہ” پہلا کالج لائبریرین سمپوزیم“ کے دوسرے سیشن میں سعودی عرب سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کو کتب بینی کی جانب راغب کرنے کے لیے لازمی ہے کہ گھر سے اس عادت کو پروان چڑھایا جائے اسکول میں لائبریرین غیر نصابی کتب پڑھنے کا اہتمام رکھیں ۔حکومت کو چاہئے کہ کتابوں کو سستا کریں اورلوگوں کو چاہئے کہ کتابوں کو تحفہ کے طور پر دینا عام کریں کیوں کہ اس اکا ذائقہ ہمیشہ رہتا ہے میں نے خود 2006 سے کتابیں اور تحقیقی مقالہ جات لکھنا شروع کئے۔اب تک میں 5 کتابوں کا مصنف ہوں اور تقریباً80 سے کم و بیش تحقیقی مقالہ جات بھی شائع کرواچکا ہوں۔میری اگلی کتاب قلم، کتاب اور لائبریری کے عنوان سے ایک کتاب شائع ہونے والی ہے۔اس موقع پر رئیس احمد صمدانی نے کہاکہ مجھے لکھتے ہوئے نصف صدی گزر چکی ہے اور لکھنے کا سلسلہ لائبریرین انفارمیشن سائنس کی فرسٹ ایئر کی پہلی کتاب کے شائع ہونے سے شروع ہوا۔مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ انٹر کی ٹیکسٹ بک شعبہ ¿ لائبریری انفارمیشن سائنس کی کتاب 1976 میں لکھی تھی اور میں لکھنے والوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر کتاب لکھنا چاہتے ہیں تو مالی فائدہ اور معاوضہ بھول کر لکھیں۔پڑھیں ، لکھیں اور کتاب سے محبت کریں ساتھ ساتھ کتاب کو زندگی کا حصہ بھی بنائیں۔ڈاکٹر فرحت حسین سابقہ چیئرپرسن لائبریری انفارمیشن سائنس کراچی یونیورسٹی نے کہا کہ مصنف کا کتاب لکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے جس سے مجبور ہوکر آپ کتاب لکھنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں کراچی یونیورسٹی کو جوائن کرنے سے پہلے صحافتی ادارے جنگ گروپ کے ہفت روزہ میگزین جس میں تقریباً 1000 سے کم و بیش آرٹیکل شائع ہوئے جس کے بعد کراچی یونیورسٹی میں بحیثیت استاد اپنی خدمات انجام دیں ۔مہران یونیورسٹی کے آئی ٹی پروفیشنل لیاقت علی راہو نے کہا کہ گذشہ ماہ شائع ہونے والی کتاب کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ لائبریری پروفیشنلزکوٹیکنالوجی کے میدا ن میں پیش آنے والے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ”کوہا سافٹ ویئر“ پر مبنی کتا ب شائع کی اور یہ لائبریرینز کو بلا معاوضہ سافٹ ویئرانسٹال کر کے دیا جاتا ہے تاکہ کالج و یونیورسٹیز کے لائبریرینز بہتر طور پر اپنے اپنے اداروں میں خدمات سرانجام دے سکیں ۔ڈاکٹر آمنہ خاتون نے کہا کہ میں نے لائبریرینز میں تعلق و تعاون کو بڑھانے کے لیے لائبریرنز کی ایک ڈائریکٹری کمپائل کی جس سے آپس میں اتحاد و اتفاق بڑھا ۔ اس نشست کے میزبانی کے فرائض ڈاکٹر یوسف علی نے سر انجام دیئے ۔


