انجینئر حمید بلوچ کا خودمختار اور متوازن خارجہ پالیسی اپنانے کا مطالبہ

تربت (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو وقتی سفارتی مفادات یا شخصیات کی خوشنودی کے بجائے قومی خودمختاری، اصولی مؤقف اور عوامی مفاد کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے Donald Trump کی قیادت اور سفارتکاری کی غیر معمولی تعریف ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں امریکہ کی پالیسیوں پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل پاکستان کی خودداری اور متوازن خارجہ پالیسی کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ خصوصاً غزہ کی صورتحال عالمی ضمیر کا امتحان بن چکی ہے۔ اگر بین الاقوامی فورمز پر Benjamin Netanyahu کو نمائندگی دی جاتی ہے جبکہ فلسطینی عوام کی آواز کو دبایا یا محدود کیا جاتا ہے تو یہ انصاف، امن اور انسانی حقوق کے عالمی دعووں کی صریح نفی ہے۔ پاکستان کی تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی غیر مبہم اور فعال حمایت کرے اور کسی بھی دوہرے معیار کا حصہ نہ بنے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے مزید کہا کہ عالمی سیاست میں ابھرتا ہوا طاقت کا بیانیہ جس کی جھلک حالیہ تقاریر میں Marco Rubio جیسے رہنماؤں کے بیانات سے ملتی ہے دنیا کو ایک نئی سرد جنگ اور تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کو بلاک سیاست کا تابع بننے کے بجائے ایک خودمختار، کثیر جہتی اور توازن پر مبنی خارجہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے جو خطے میں امن، باہمی احترام اور اقتصادی تعاون کو فروغ دے۔
انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کی مضبوطی کا انحصار داخلی استحکام پر ہوتا ہے۔ جب تک ملک کے اندر جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہوں گے، پارلیمانی بالادستی یقینی نہیں بنائی جائے گی، اور وفاقی اکائیوں کے وسائل و حقوق کا تحفظ نہیں ہوگا، تب تک عالمی سطح پر خودمختاری کے دعوے کمزور رہیں گے۔ معاشی انحصار اور داخلی ناہمواری کسی بھی ریاست کو بیرونی دباؤ کے سامنے کمزور کر دیتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ نیشنل پارٹی ہر قسم کی سامراجی مداخلت، جارحانہ پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کی واضح اور غیر مشروط مخالفت کرتی ہے۔ پائیدار امن محض نمائشی فورمز یا علامتی بیانات سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ انصاف، برابری، جمہوریت اور اقوام کے حقِ خودارادیت کے حقیقی احترام سے ممکن ہوتا ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان خارجہ پالیسی پر پارلیمان کو اعتماد میں لے، قومی مکالمہ شروع کرے اور ایک ایسی جامع حکمتِ عملی ترتیب دے جو کسی بھی عالمی طاقت کے تابع ہونے کے بجائے عوامی مفاد اور قومی وقار کی عکاس ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں