حکومت کو عمران خان سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے، نہ وہ ایسا ارادہ رکھتی ہے،سینیٹر عرفان صدیقی

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، سینٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اور امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ حکومت کی از خود تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے رابطہ کرنے کی کوئی ضرورت ہے، نہ وہ ایسا ارادہ رکھتی ہے۔ عمران خان آج جہاں بیٹھے ہیں اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں، ہم نے ان پر چرس، ہیروئن یا ایفیڈرین جیسا کوئی جھوٹا مقدمہ نہیں بنایا، وہ ٹھوس مقدمات کی وجہ سے جیل میں ہیں اور عدالتی چارہ جوئی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ ان کے دور میں نواز شریف سمیت درجنوں لیڈر جیلوں میں تھے، خان صاحب نے کبھی کسی کا حال پوچھا؟ وزیراعظم شہباز شریف کئی بار پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں، یہ پیشکش آج بھی موجود ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات اور جمہوری رویوں یا مثبت پارلیمانی کردار کیلئے نہیں، صرف سڑکوں پر ہنگامے اور فساد کے لیئے بنی ہے۔ یہ بات سینٹر عرفان صدیقی نے نجی ٹی وی میں اینکر کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے جیل میں ہونے کے باوجود حکومت اور ریاست کے تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چل رہے ہیں، معیشت ترقی کر رہی ہے، خارجہ تعلقات میں بہت بہتری آ رہی ہے، سٹاک ایکسچینج میں نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں، ملک میں کسی طرح کا کوئی بحران نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ہم نے کسی مصنوعی مقدمے میں جیل میں نہیں ڈالا، سب کچھ ان کا اپنا کیا دھرا ہے اور اب اپنے راستے میں پتھر بھی وہ خود ہی ڈال رہے ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر ایک ہی دن پانچ افراد جیل میں عمران خان سے مل کر آئیں تو باہر آ کر ہر ایک الگ کہانی سناتا اور الگ خبر دیتا ہے، جو سب ایک دوسرے کے الٹ ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کی تحریک کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی تو اپریل 2022 سے تحریک چلا رہی ہے، جسے اب تین سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ اس دوران اس نے 9 مئی بھی کر لیا، کسی نئی تحریک پر نکلنے سے پہلے وہ سوچ لیں کہ سوا تین سال کی تحریک نے اسے کیا دیا؟ اب اگر اس کے اسلحہ خانے میں کوئی ہتھیار باقی رہ گیا ہے تو وہ بھی استعمال کر لیں نتیجہ وہی نکلے گا جو اس کے سوا تین سالہ تحریک سے نکلا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ تحریک کی ناکامی کی صورت میں علی امین گنڈاپور نے مستعفی ہو جانے کا اعلان کیا ہے، سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ان کے استعفے سے پاکستان کی صحت پر کیا اثر پڑنا ہے؟ بہتر ہے وہ ابھی سے استعفٰی دے دیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ وقت آنے پر میاں محمد نواز شریف سیاست اور وقت کے تقاضوں کے مطابق متحرک کردار ادا کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں