اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان کیلئے وفاقی محکموں میں مختص کوٹے میں کسی قسم کی کمی یا ناانصافی کا تاثر قطعی طور پر حقائق کے منافی ہے، بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کے ازالے کے لیے 2007 میں ان کا کوٹہ 3.5فیصد سے بڑھا کر 6فیصد کیا گیا جو ان کی آبادی سے بھی زائد ہے۔پیر کو سینیٹ اجلاس میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ اس وقت وفاقی حکومت کے مختلف محکموں میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 45,809سرکاری ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ مزید 3,353آسامیوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے جو مکمل طور پر بلوچستان کے کوٹے کے تحت پر کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ گریڈ 1 سے 16 تک کی 41,901 جبکہ گریڈ 17 سے 22 تک کی 3,908افسران کی تقرری بلوچستان سے کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ کسی اور صوبے کو بلوچستان کے کوٹے پر بھرتی نہیں کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آغاز حقوق بلوچستان کے تحت اعلان کردہ 11 ہزار ملازمتیں بھی اسی 6 فیصد کوٹے میں شامل ہیں اور اگر ان کو کوٹے سے ہٹ کر پر کیا گیا تو وہ کسی دوسرے صوبے کے کوٹے کو متاثر کریں گی جو کہ ممکن نہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد جیسے علاقوں کو بھی کوٹے میں محرومی کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت نے بلوچستان کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت دستیاب 1000 ارب روپے میں سے 210 ارب روپے بلوچستان کو دیئے گئے، جو ان کی آبادی سے زائد تناسب ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے بلوچستان کے لیے حالیہ اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں 60 ارب روپے کے سولر ٹیوب ویل منصوبے کا آغاز،6 جدید دانش سکولوں کا قیام اور عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی سے حاصل شدہ 300 ارب روپے کی بچت کو بلوچستان کی سڑکوں کی تعمیر پر مختص کرنا ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی بیرونی سازشوں خصوصا بھارت کی پراکسیز کی کارستانی ہے جن کا محرومیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ وفاقی حکومت اور مسلح افواج دہشت گردی کے خاتمے تک بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور حکومت ہر فورم پر اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچستان کو قومی دھارے میں مکمل طور پر شامل کیا جائے گا۔

