کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پیر کو یہاں محکمہ مواصلات و تعمیرات کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ہنہ شاہراہ، سبی تھڑی کوہلو روڑ سمیت مختلف اہم شاہراتی منصوبوں کی پیش رفت، مالیاتی امور اور معیارِ تعمیرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اجلاس کے دوران محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام نے وزیر اعلیٰ کو ہنہ روڑ اور سبی تا تھڑی کوہلو روڑ سمیت مختلف جاری منصوبوں پر بریفنگ دی بتایا گیا کہ دونوں اہم شاہرائیں رواں مالی سال کے دوران مکمل کر لی جائیں گی جن سے نہ صرف علاقائی مواصلاتی رسائی بہتر ہوگی بلکہ مرکزی شاہرات سے رابطے میں بھی آسانی پیدا ہوگی اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ موجودہ مالی سال میں 27 اہم سڑکوں کی تعمیر و بہتری کے لیے 27 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور صوبے کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت اور معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں انہوں نے کہا کہ غیر معیاری کام اور بلاجواز تاخیر کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی سیکریٹری مواصلات لعل جان جعفر نے اجلاس کو بتایا کہ ناقص کارکردگی، غیر معیاری کام اور تاخیری حربوں میں ملوث 56 کنٹریکٹرز اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے جن میں دو انشورنس کمپنیز بھی شامل ہیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایڈوانس ادائیگیوں اور مالی نظر ثانی کے غیر ضروری رجحان کو جڑ سے ختم کیا جائے گا انہوں نے متنبہ کیا کہ “اگر کسی افسر نے کسی منصوبے پر کام شروع ہونے سے قبل ایڈوانس ادائیگی کی تو اس کے خلاف فوری کارروائی ہوگی ایسے افسران معطلی یا برطرفی کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وسائل کی بروقت فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ان ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل متعلقہ محکموں کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے جس میں کوئی کوتاہی قابلِ قبول نہیں اجلاس کے دوران زمری روڑ منصوبے میں مسلسل تاخیر پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ مواصلات کو حکم دیا کہ آئندہ 20 دنوں میں اس منصوبے پر باقاعدہ تعمیراتی سرگرمیاں شروع کی جائیں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ ٹائم لائن میں پرکام شروع نہ کیا گیا تو متعلقہ افسران اور کنٹریکٹرز کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت ترقیاتی عمل میں شفافیت، رفتار اور معیار کو بنیادی اصول مانتی ہے انہوں نے کہا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے فنڈز کا درست اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی غفلت یا کرپشن پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عملدرآمد ہوگا
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- سیاسی اختلاف کا جواب کردارکشی اور پروپیگنڈے سے دینا دلیل کی کمزوری اور سیاسی دیوالیہ پن کا مظہر ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق
- عطاء اللہ بلوچ کی صدر کے ترجمان میر علی حسن زہری سے ملاقات،حب کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
- لورالائی سرکل کے صارفین کیلئے کیسکوکھلی کچہری پروگرام23اکتوبر (بروزجمعہ) منعقد ہوگی
- صارفین کی شکایات کابروقت ازالہ ہماری اولین ترجیح ہے، مرزا اعزاز بیگ
- تربت،ٹریفک روانی بہتر بنانے شہری نظم و ضبط برقرار،عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے، ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی
- پولیو خاتمے کیلئے ای پی آئی پروگرام مؤثر بنانا، حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بڑھانا، ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانا ناگزیر ہے، کمشنر کوئٹہ ذیشان لاشاری
- شیخ جعفرمندوخیل سے بلوچستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسیایشن الائنس کے کی وفد کی ملک رشید کاکڑ، محمد نواز پندرانی کی قیادت میں ملاقات
- ڈاکٹر گل سمین میروانی نے ینگ کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ایوارڈ حاصل کرلیا
- بلوچستان میں ٹیلی میڈیسن ہیلتھ یونٹس فعال
- ایران سے مذاکرات نہیں ہو رہے، معاملہ جلد کسی نہ کسی صورت حل ہو جائے گا، امریکی صدر ٹرمپ

