کابینہ کے اہم فیصلے: محکمہ صحت کے غیر فعال مراکز آرمی کی معاونت سے فعال، کسانوں کو سبسڈی پر ٹریکٹر فراہم کیے جائیں گے

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منگل کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں صوبے کی مجموعی ترقی، مؤثر حکمرانی، عوامی بہبود اور سیکیورٹی سے متعلق متعدد فیصلوں کی منظوری دی گئی اجلاس کے فیصلوں سے متعلق ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے پریس کانفرنس میں میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے صوبے کے کچھ علاقوں میں محکمہ صحت کے غیر اسپتالوں کو پاک آرمی کی معاونت سے فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو بنیادی طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں کابینہ نے زرعی شعبے کی بہتری کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے کسانوں کو پچاس فیصد سبسڈی پر زرعی ٹریکٹر فراہم کرنے کی منظوری دی اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں محکمہ زراعت کے ٹرینڈ کراپ رپورٹرز کو گریڈ 6 سے گریڈ 11 میں اپ گریڈ کرنے کی بھی توثیق کی گئی توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے کابینہ نے لسبیلہ اور حب میں 150 کلو واٹ کے سولر پروجیکٹس کے تکنیکی و مالی جائزے کے لیے سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری انرجی پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی اجلاس میں بلوچستان منرل ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام کی منظوری دی گئی جو معدنی وسائل کے شفاف استعمال اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا اس کے ساتھ بلوچستان کنٹری بیوشن پینشن اسکیم رولز 2025 کی منظوری دی گئی تاکہ سرکاری ملازمین کے لیے ایک منظم اور پائیدار پنشن نظام وضع کیا جا سکے اور آنے والے وقت میں بڑھتے ہوئے غیر ترقیاتی بجٹ کو روکا جا سکے ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے لیے کابینہ نے لیپ ٹاپ پالیسی کو مزید مؤثر اور بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح صوبے کے تمام محکموں بشمول محکمہ اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری دی گئی ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں امن و امان کی بہتری کے لیے کابینہ نے کوہلو میں دو نئے پولیس اسٹیشنز کے قیام، مانگی ڈیم کے لیے اضافی سیکیورٹی، رکھنی اور بارکھان میں سی ٹی ڈی تھانوں کے قیام اور لورالائی و سبی میں سی ٹی ڈی حدود میں رد و بدل کی منظوری دے دی اسلحہ لائسنس رولز میں ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے مفت استثنیٰ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جب کہ وزراء ، مشیران اور اراکین اسمبلی کی سیکیورٹی کے لیے مربوط پالیسی کی بھی منظوری دی گئی ہے وفاقی حکومت کی درخواست پر نجی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کو لیز پر دی گئی 20 ایکڑ اراضی واپس لے لی گئی خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹ آف ویمن کی چیئرپرسن کے طور پر کرن بلوچ کی تقرری کی منظوری دی گئی تعلیم کے شعبے میں پیش رفت کے لیے مکران اور کیچ کے انٹرنیز اساتذہ کی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی گئی جب کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے مجوزہ رولز اور صحافیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق جرنلسٹس ویلفیئر ترمیمی رولز بھی منظور کیے گئے ترجمان شاہد رند کے مطابق یہ تمام فیصلے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے اس ویژن کی عکاسی کرتے ہیں جو ایک بااختیار، محفوظ، ترقی یافتہ اور عوام دوست بلوچستان کے قیام پر مرکوز ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شفافیت، میرٹ، اور عوامی خدمت کے اصولوں پر کاربند ہے اور ان فیصلوں کے ثمرات جلد عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں