جنیوا (این این آئی) چیئرمین سینیٹ آف پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام گزشتہ 75 برس سے حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔جنیوا میں پارلیمانی اسپیکرز کی چھٹی عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ عالمی چیلنجز، پارلیمانوں کے کردار اور پاکستان کے عزم پر تفصیلی روشنی ڈالی۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بہتر مستقبل کی جانب بڑھنے کے لیے یہ بین الاقوامی پلیٹ فارم انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا اس وقت پھیلتے ہوئے تنازعات، بڑھتے ہوئے اقتصادی عدم استحکام، موسمیاتی تبدیلیوں، عدم مساوات اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور انسانی اقدار کی پامالی کے واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں، خاص طور پر فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف پر چیئرمین سینیٹ نے عالمی برادری کی توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام گزشتہ 75 برس سے حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایسی پیچیدہ صورتحال میں عالمی و علاقائی پارلیمانوں کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن ہے،پاکستان کی پارلیمان نے ہمیشہ امن، ترقی اور بین الپارلیمانی تعاون کا پرچار کیا ہے۔ ایوان بالا نے خواتین اور نوجوانوں کی بھرپور نمائندگی کو یقینی بنایا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں شروع کیے گئے ”بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام پاکستان کا ایک مثالی سماجی تحفظ کا نظام ہے جس کا مقصد غربت کے خاتمے اور محروم طبقات کو سہارا دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بطور چیئرمین سینیٹ اور بانی چیئرمین انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس، پارلیمانی سفارتکاری کو خاص اہمیت دیتے ہیں اور پارلیمانوں کے مابین روابط کو مشترکہ چیلنجز کے حل کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان رواں برس 11 اور 12 نومبر کو اسلام آباد میں اسپیکرز کانفرنس کی میزبانی کرے گا اور اس موقع پر انہوں نے تمام پارلیمانی سربراہان کو کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنیوا میں منعقدہ یہ عالمی کانفرنس انصاف، امن اور مساوات کے فروغ میں معاون و موثر ثابت ہوگی۔ چیئرمین سینیٹ نے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے مابین قیامِ امن کے لیے ملائیشیا کے کردار کو سراہا، جبکہ کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر منتظمین اور متعلقہ حکام کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

