بھاری بیرونی قرضوں تلے پاکستانی معیشت بیٹھ گئی ہے،پارلیمنٹ آئندہ دس سالوں تک نئے قرضے لینے پر مکمل پابندی عائد کرے، الطاف شکور

کراچی(این این آئی)پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اور سماجی ترقی، بھاری بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دب چکی ہے۔ جب تک اس قرضے کے جال سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاتا، ملک حقیقی خودمختاری اور معاشی آزادی حاصل نہیں کر سکتاہے۔ ملک کا نصف سے زائد قومی بجٹ، قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے۔ حکومت پرانے قرضے اتارنے کے لیے مسلسل نئے قرضے لے رہی ہے۔ اس صورتحال میں اصل فائدہ بینکوں اور قرض دہندہ اداروں کو ہو رہا ہے، جب کہ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہماری معاشی پالیسیاں بیرونی مالیاتی ادارے، خصوصاً آئی ایم ایف، کی مرضی سے بنتی ہیں، جس کی مرضی کے بغیر حکومت اپنے عوام کو کوئی ریلیف تک نہیں دے سکتی ہے۔الطاف شکور نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ فوری طور پر ایسا قانون منظور کرے جس کے تحت آئندہ دس سالوں تک نئے قرضے لینے پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ معیشت کو سنبھلنے کا موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آؤٹ آف دی باکس حل تلاش کرناہوں گے اور ایک ایسے معاشی نظام کی بنیاد رکھنی ہو گی جو عوام کے فائدے کے لیے ہو، نہ کہ صرف بینکوں اور قرض دہندگان کے۔ دریں اثناء پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری اقبال ہاشمی نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ ملکی بجٹ کا تقریباً48 فیصد یعنی 8.2 ٹریلین روپے صرف قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، جس کے بعد ترقیاتی کاموں کے لیے کچھ نہیں بچتاہے۔ گزشتہ دس برسوں میں اوسطاً جی ڈی پی شرح نمو صرف 3.5فیصد رہی ہے، جب کہ رواں سال کی شرح 2.8 فیصد ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو کہ خطے کے دیگر ممالک سے بہت کم ہے۔اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت جمود کا شکار ہے اور غربت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہر سال قرض کی اصل رقم کی ری شیڈولنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک قرضوں کا مزید بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔پاکستان کی آدھی آبادی خط غربت کے نیچے ہے اور ہر سال اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی بیرون ملک ترسیلات زر پر گزارا کر رہی ہے اور حکومت قرض اور خیرات سے کام چلا رہی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں