کوئٹہ(این این آئی)امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہ حقوق بلوچستان لانگ مارچ میں کارکنان نے بہت قربانیاں دی ہیں جان ومال کی پرواہ کیے بغیر کارکنان ہر قربانی کیلئے تیار تھی ہرکارکن نے دس دن وقت ومال کی قربانی دی انشاء اللہ انہی مخلص کارکنان وعوام کی بدولت لٹیروں سے حقوق چھیننے میں کامیاب ہوجائیں گے۔حکومت نے لانگ مارچ شرکاء سے 8مطالبات پر جو مذاکرات کرکے وعدے کیے انشاء اللہ وعدوں پر عمل کریں گے جماعت اسلامی یوم تاسیس کا عشرہ 21تا31اگست اورعشرہ سیرت النبی ﷺ یکم تا10ستمبربھر پوراندازمیں منائیں گے امرائے اضلاع سیمینارتقاریب کا اہتمام کریں۔صوبہ بھر میں ایک ہزار عوامی کمیٹیاں بنائیں گے 21,22,23نومبر کل پاکستان اجتماع عام لاہور میں ہوگامسائل کوحل کرنے کیلئے عوامی بیٹھک فعال کیاجائیگابدعنوانی،لاقانونیت،مقتدر قوتوں کی لوٹ مار،چیک پوسٹوں پرعوام کی تذلیل،مقتدرقوتوں کامسائل کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کے بجائے ردعمل پیدا کرکے نوجوانوں کوپہاڑوں کی طرف بجھوانے کی وجہ سے بلوچستان کو نوگوایریابن گیا ہے جماعت اسلامی نوجوانوں،عوام الناس سمیت ہر طبقہ فکر کو متحدکرکے مذاہمت کے ذریعے جمہوری جدوجہد کرکے عوام کو حقوق دلائیگی بلوچستان کے مسائل کے ذمہ دار سیکورتی فورسزاسٹبلشمنٹ اور مسلط کردہ نااہل حکمران ہیں جماعت اسلامی پر عوام کا اعتماد ہے۔لانگ مارچ کی کامیابی سے کارکنان متحرک وفعال،عوام میں امید پیدا ہوئی ہے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے جما عت اسلامی بلوچستان صوبائی ذمہ داران ماہانہ تنظیمی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ،نائب امراء عبدالمتین اخوندزادہ،زاہداختربلوچ،بشیراحمدماندائی،مولانامحمد عارف دمڑ،پروفیسر سلطان محمد کاکڑ،نورالدین غلزئی،سلطان محمدمحنتی،امیر ضلع کوئٹہ عبدالنعیم رندعبدالولی خان شاکر،اسامہ ہاشمی احمدشاہ غازی نے شرکت کی اجلاس میں ذمہ داران نے اپنی وشعبہ کی رپورٹ پیش کی اجلاس میں اسلام آباد لانگ مارچ کی رپورٹ بھی پیش کی گئی اجلاس میں اس بات پراطمینان کا اظہارکیا گیا ہے کہ لانگ مارچ کی کامیابی صوبائی وضلعی ذمہ داران اورکارکنان کی اخلاص ونیک نیتی تھی سب ذمہ داران نے لانگ مارچ میں بھر پور حصہ لیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ذمہ داران نے کہاکہ کہ انشاء اللہ بلوچستان کے عوام کی ترقی وخوشحالی امن وعدل اورحقوق کے حصول کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا بلوچستان میں بارڈربندش سے کاروبار بندعوام بدحال تاجر بے روزگار ہوگئے ہیں۔بے گناہوں کی لاشیں پھینکنے سے ہرفردپریشان وخاندان کے خاندان کرب واذیت میں مبتلا ہیں،لوگوں کو غائب وقتل کرنے کی وجہ سے عوام خوف دہشت کا شکاراسٹبلشمنٹ وسیکورٹی ادارے تماشاکر رہے ہیں۔ بلوچستان کو ساحل ووسائل کی فراہمی،تجارت کی بحالی،لاپتہ افرادکی بازیابی،بارڈربندش،طاقت کے استعمال کے خاتمے اور امن وعدل کیلئے جدوجہدکو تیز وجمہوری مذاہمت کومنظم بنائیں گے۔کامیاب اسلام آباد لانگ مارچ سے حکمران بھی پریشان ہوگیے ہیں اور بلوچستان کے سلگتے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوئی ہیں عوام ونوجوانوں کی تعاون سے حکمرانوں کو خواف غفلت سے بیدار کریں گے کوئٹہ میں ایک لاکھ افراد دھرنا بھی پیش نظر ہے کوئٹہ سمیت بلوچستان میں بدامنی بے روزگاری نے حالات خراب بلوچستان کی معیشت متباہ کر دیا ہے سیکورٹی ادارے وحکومت عوام کی جان ومال کی حفاظت یقینی بنائیں بے گناہوں کے قتل کی حمایت کوئی باشعورفرد نہیں کر سکتا مسخ شدہ لاشیں جبری گمشدگیوں اور کاروبار تجارت بندش کی وجہ سے حالات خراب غربت بے روزگاری اور پریشانی میں اضافہ ہوا ہے

