کوئٹہ (این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کوئٹہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس/قومی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 11تا 14مارچ 2022بنو ں پشتون قومی جرگہ میں پشتون من الحیث قوم 28نکاتی قومی ایجنڈا تیار ہوا تھا اوراگر ضرورت ہوئی تو میں اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے لیکن یہ ہمارا قومی ایجنڈا تھا۔ پاکستان کے جو مسائل ہیں اس کے حوالے سے تحریک تحفظ آئین پاکستان اور حالیہ آل پارٹیز کانفرنس میں سب کچھ طے پایا ہے جو تمام دوستوں کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہ دہشتگردی میں یہاں موجود کسی پارٹی کا ہاتھ نہیں نہ ہی کوئی ملوث ہے بلکہ دہشتگردی ہمارے وطن اور عوام پر مسلط کی گئی ہے اور ریاست ان دہشتگردوں کی پرورش کرتی چلی آرہی ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لوگوں کو خوف وہراس کر کے منظم طریقے سے ان کی جائیدادوں، زمینوں، وسائل، معدنی خزانوں پر قبضہ کی سازش کی جارہی ہے۔ عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں فیڈریشن نام کی کوئی شے موجود نہیں، SIFCسے ملک کا فیڈریشن ڈھانچہ پائمال ہوچکا ہے،وہ تمام ڈیوال سجیکٹ جو صوبوں کے پاس ہیں یعنی (زراعت، جنگلات،ماہی گیری، مائنز ومنرلز،کان کنی، انفارمشین ٹیکنالوجی، کمیونکیشن ودیگر محکمے) میں مداخلت کرکے اسے مرکز کے حوالے کیا گیا جو صوبائی خودمختاری پر شدید حملے کے مترادف ہے اور صوبائی خودمختیار اب نہیں رہی ہے۔ مائنز ومنرلز ایکٹ میں فیڈرل اداروں کے نام لکھے گئے ہیں اورSIFCجس کا سربراہ وزیر اعظم ہوگا اور وفاقی وزراء، وزراء اعلیٰ،چیف آف آرمی سٹاف، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے لوگ اس کمیٹی کے ممبران ہوں گے یہ ادارہ صوبائی سبجیکٹ میں جو بھی مداخلت کرنا چاہے کرسکے گا اور اس طرح آئینی ڈھانچہ کوتباہ کیا گیا اور فیڈرل نظام پاکستان میں اب نہیں رہا،صوبائی خودمختیار ی ختم کردی گئی ہے۔ عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ پاکستان ٹوٹنے تک ایک متفقہ آئین میں جو لوگ رکاوٹ تھے اور ساتھ ہی اٹھارویں ترمیم کے وقت پشتون قومی وحدت آئین کا حصہ نہیں بنا جس پر پشتونخوامیپ اور اے این پی کے قومی خدشات کے نوٹ تحریری طو ر پرریکارڈ کا حصہ بنائے گئے تھے۔آج فارم47کی حکومت/حکومتوں کے ذریعے اٹھارویں آئینی ترمیم کو ملیامیٹ کیاجارہا ہے، اٹھارویں آئینی ترمیم میں انسانی حقوق، عدلیہ ومیڈیاکی آزادی، سیاسی کارکنوں کے ساتھ جو آئین کے آرٹیکل 8سے28تک انسانی حقوق محفوظ تھے ان سب پر حملہ کیا جارہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں، سیاسی لوگ آپس میں بہت سی چیزوں پر اختلاف رکھتے ہوں گے لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ پشتون بلوچ مشترکہ صوبہ کے پشتون اضلاع میں چمن، قلعہ عبداللہ خان،ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ خان، موسیٰ خیل، لورالائی،زیارت، ہرنائی میں عوام کی زمینوں کی الاٹمنٹس اور انتقالات ہوئے ہیں۔ تقریباً2655210ایکڑ زمین کی الاٹمنٹس کی گئی ہے جبکہ ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی میں 254248ایکڑ زمین کے انتقالات ہوئے ہیں۔ انگریزی دور حکومت کے چیف کمشنر صوبہ برٹش بلوچستان کے 1880میں قائم شدہ ضلع تل چوٹیالی جس میں (ضلع سبی، ضلع ہرنائی، ضلع دکی، ضلع زیارت)شامل تھے اور اس کے بعد سن 1900میں ضلع سبی کی تشکیل ہوئی تھی جس میں ضلع ہرنائی اور ضلع زیارت شامل تھے۔ ضلع تل چوٹیالی کے قبائلی سرداروں، قبائلی ملکوں، قبائلی خانان اور دیگر قبائلی معززین کی مشاورت سے محکمہ جنگلات کو جنگلات اور جنگلی حیات کے فروغ او ر تحفظ کے لیے انتہائی قیمتی قدرتی جنگلات اور جنگلی حیات کی حفاظت کے لیے نوٹیفکیشن جاری ہوتے رہے جس میں قیمتی جنگلات اور اس کی قیمتی زمینوں کے مالک وہاں کے لوکل قبائلی عوام تھے اور انہیں ان جنگلات میں مال چرائی، ضرورت کی خشک لکڑی، گھر بسانے اور زمینوں کو زراعت کے لیے استعمال میں لانے کی مکمل اجازت تھی اور 1892سے لیکر آج تک ہمارے عوام یہ حق استعمال کرتے چلے آئے ہیں اور 4جون 2025کوبھونڈے انداز میں ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی کے قبائلی عوام کے جنگلات اور قیمتی زمینوں کا انتقال ہوا اور دونوں اضلاع میں ہمارے عوام کو حق ملکیت سے غیرآئینی اور غیر قانونی طور پر محروم کرنے کی گہری سازش کی گئی۔ محکمہ ریونیو جو پاکستان یا صوبوں کی زمینوں یا ہمارے درمیان ریکارڈ کا انتظام کرتا ہے انہوں نے ہمارے عوام کی زمینوں کو محکمہ جنگلات کو غیرقانونی طور پر انتقال کردی ہے۔ اسی طرح چوتیر، زیارت،منہ 6سے 8یونین کونسل اور ضلع ہرنائی کے کچھ یونین کونسلز ہیں جہاں ہمارے عوام کی زمینداری اور گھر آباد ہیں کے بھی انتقالات کیئے گئے ہیں۔ ہرنائی کے زرغون غر یونین کونسل کی بھی انتقال ہوئی ہے جہاں لوگ رہ رہے ہیں اور ان کے باغات ہیں،زراعت ہیں وہاں پر وہ آباد ہیں اب وہ وہاں کے مالک نہیں رہے۔اسی طریقے سے قلات، ہربوئی ودیگر میں یہ سب کچھ ہوا ہے۔ الاٹمنٹس کے لیے ہمارے پاس قانون موجود تھے۔ لوکل آدمی کو بُلا کر ان کی مرضی وشراکت سے جہاں معدنیات ہوتے تھے وہاں پر الانمنٹس قانونی طور پر ہوتے تھے باقی کسی چیز کی الاٹمنس نہیں ہوا کرتی تھی۔ اس حوالے سے معزز عدالت کا فیصلہ بھی آچکا ہے۔ حمید خان اچکزئی اُس وقت صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے،تاج جمالی کی حکومت میں 500ایکڑ زمین جو کہ بازئی قبیلے کی ملکیت تھی کی الاٹمنٹ ہوئی تھی اسے صوبائی اسمبلی سے کینسل کرووایا گیا تھا اور اس منسوخی کا ریکارڈ پر صوبائی اسمبلی میں موجود ہے اور یہ ڈکلیئر کرایا گیا تھا کہ جو بیرون ازلائن دراصل وہاں کے مقامی قبائل اس کے مالک ہیں۔ یہ فیصلہ عدالت نے بھی کیا ہے۔ لیکن اب جو کچھ ہورہا ہے یہ سب کچھ غیر قانونی طور پر کیا گیا ہے اور کسی بھی علاقے، ضلع کے فرد کو اس بارے میں معلومات حاصل نہیں۔ عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ اسی طرح تفتان، چمن، کدنی پشین، بادینی، قمر الدین کاریز، غلام جان بندر، انگور اڈہ،خرلاچی،طور خم، ناواپاس (باجوڑ) ودیگر تجارتی راستوں اور خصوصاً تاریخی طور پر ڈیورنڈ لائن پر صدیوں سے جاری آمدورفت کوبند کیا گیا ہے۔حضرت ابراہیم ؑ نے خداوند تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ یا اللہ امن اور ہمارے رزاق کا انتظام ہو لیکن ہم پر امن اور رزق کے دروازے بند کیئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں تعلیم، صحت، بجلی، گیس، پینے کے صاف پانی، روزگار سے محروم رکھا جارہا ہے اورانتہائی کسمپرسی کی حالت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ جو بھی ایجنڈا مرتب ہوگا اس میں سب کچھ شامل کیا جائے، پشتون بلوچ برابر اور سیال اقوام کی حیثیت سے اپنے وطن کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے آپ سب کے ساتھ ہوں گے۔ عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ اس وقت ملک میں سیاست کا خاتمہ کیا جارہا ہے اورملک میں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری،جمہوری کی حکمرانی،قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن اور ملکی آئین میں تشکیل کیئے گئے آئینی ادارے اور ہر ہر آئینی ادارے کو اپنے دائرہ اختیار کا پابند بنانے کے ہمارے ان مطالبات پر پشتونخواملی عوامی پارٹی کو سزا دی جارہی ہے۔ لیکن آج آئین کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہے۔ اس سے پاکستان کے حالات اور بحران مزید گہرے ہوں گے۔ ہم فوج کے خلاف نہیں بلکہ فوج سمیت ہر ادارے کی سیاست میں مداخلت کے بدترین مخالف ہیں۔ عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا شعار تھا کہ جمہوریت ہماری سیاست اور مسلم لیگ ن کا بیانیہ تھا کہ ووٹ کو عزت دو۔ پیپلز پارٹی اپنے نعرے جمہوریت ہماری سیاست ہے کہ تحت اور مسلم لیگ ن ووٹ کو عزت دو کی جس طریقے سے بے توقیری ہوئی ہے اسے اپنے نعرہ ووٹ کو عزت دو کا پابند ہونا چاہیے اور اس طرح ملک سے سیاست اور جمہوریت ختم کرنے کی جو سازش جاری ہے اس کے خلاف تمام سیاسی پارٹیوں نے ایک ہوکر آواز بلند کرنا ہوگا۔ملک جن ہمہ جہت بحرانوں میں گر چکا ہے اس کا حل سیاسی استحکام سے ممکن ہے۔ ملک میں سیاسی استحکام لانا ہم سب کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- تکنیکی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے اکیڈیمیا اور صنعتوں میں روابط کی ضرورت ہے : چیئر مین ایچ ای سی
- موجودہ عالمی جنگ کے ختم ہونے کے امکانات
- چاغی میں محکمہ ایکسائز نے 200ایکڑ رقبے پر کاشت افیون کی فصل تلف کردی
- ہزار گنجی واقعہ، جان علی کی شہادت پر تشویش، ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے، کاشف حیدری
- ایران کے بلااشتعال حملوں کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں، متحدہ عرب امارات
- ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار نہیں کر رہا، ایرانی وزیر خارجہ
- نیشنل پارٹی کے سید ملا برکت بلوچ نے سید سخی جان کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا
- خواتین نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور ملک و قوم کا نام روشن کیا ہے،روبینہ عرفان
- خضدار،حلقہ این اے 256 پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے پانچ جماعتوں نے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیئے
- پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 55روپے کا اضافہ ناقابل قبول ہے،روزی خان کاکڑ

