کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبے سے سینیٹ الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما ایمل ولی خان کی امیدواری کے خلاف دائر آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان کی نامزدگی اور بطور سینیٹر انتخاب مکمل طور پر آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق تھا۔یہ فیصلہ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محمد علی کنرانی اور حضرت علی کاکڑ ایڈووکیٹس کی دائر کردہ آئینی درخواست پر سنایا۔درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ایمل ولی خان کی بلوچستان سے سینیٹ جنرل نشست پر نامزدگی اور بعد ازاں ان کی بطور سینیٹر کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، کیونکہ وہ نہ تو بلوچستان کے رہائشی ہیں اور نہ ہی صوبے کے ووٹر۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ مدعا علیہ نے بلوچستان میں ووٹر کے طور پر جھوٹا اندراج کرایا اور الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 110 کی خلاف ورزی کی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) اور ایمل ولی خان کے وکلاء نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ امیدوار کے کاغذات نامزدگی قانون کے مطابق جانچ پڑتال کے بعد منظور کیے گئے، اس مرحلے پر کسی امیدوار یا شہری کی جانب سے کوئی اعتراض دائر نہیں کیا گیا، جبکہ آئینی طور پر انتخابی نتائج کو صرف الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، آئینی درخواست کے ذریعے نہیں۔عدالت نے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ ایمل ولی خان کا قومی شناختی کارڈ (CNIC) بلوچستان کے پتے — “ارباب ہاؤس، خدائداد روڈ، قلعہ کاسی، کوئٹہ پر جاری ہوا ہے، ان کا نام کوئٹہ کے حلقے کی ووٹر فہرست میں موجود ہے، اور الیکشن کمیشن نے 15 مارچ 2024 کو ان کے ووٹر اندراج کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ ایمل ولی خان کا ووٹر اندراج یا شناختی پتہ غیرقانونی طریقے سے حاصل کیا گیا ہو۔فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 26 اور 27 کے مطابق کسی شخص کو اس حلقے کا رہائشی سمجھا جاتا ہے جہاں اس کے شناختی کارڈ پر مستقل یا عارضی پتہ درج ہو، اور ووٹر لسٹ میں اس کا نام موجود ہو۔ لہٰذا ایمل ولی خان کے پاس بلوچستان سے سینیٹ الیکشن لڑنے کی مکمل اہلیت موجود تھی۔عدالت نے قرار دیا کہ ایک بار جب انتخابی عمل مکمل ہو جائے اور امیدوار کا نوٹیفکیشن جاری ہو جائے، تو اس کی اہلیت سے متعلق اعتراض صرف الیکشن ٹربیونل کے ذریعے ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 225 کے مطابق ایسے معاملات میں آئینی درخواست ناقابلِ سماعت ہوتی ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایمل ولی خان نے آئین کے آرٹیکل 62 اور الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 110 کے مطابق اپنے کاغذات جمع کرائے اور کسی نااہلی کے زمرے میں نہیں آتے۔ لہٰذا ان کی سینیٹ کے لیے نامزدگی اور کامیابی کو آئینی اور قانونی طور پر درست قرار دیا گیا۔عدالت نے آئینی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

