کوئٹہ(این این آئی) گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں سہولت کاری کر کے عالمی سطح پر سفارتکاری کی ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ دانشمندانہ سفارت کاری پر قسم کی جنگی صورتحال اور کشیدگی پر غالب آسکتی ہے۔ تقریباً پچاس سال کے بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہا۔ پاکستان نے حالیہ چالیس روزہ تباہ کن جنگ کے بعد عارضی جنگ بندی میں ثالثی کرکے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں جہاں دونوں ممالک سنجیدہ اور معنی خیز مذاکرات کیلئے موجود ہیں۔ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شامل ہیں جبکہ ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ دنیابھر ممالک خاصکر ایران اور عرب ممالک کے عوام بھی کامیاب مذاکرات اور دیرپا امن کی خبروں کے منتظر ہیں۔ پاکستان کامیاب مذاکرات اور پرامن مستقبل کیلئے پرعزم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے جلد مثبت نتائج برآمد ہونگے۔

