موجودہ عالمی جنگی صورتحال میں گوادر پورٹ کی افادیت و اہمیت

گوادر (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی جنگی و جغرافیائی کشیدگی کے تناظر میں گوادر پورٹ کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ دنیا جس تیزی سے نئے بلاکس اور اقتصادی و دفاعی اتحادوں میں تقسیم ہو رہی ہے، اس میں بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع گوادر ایک اسٹریٹجک مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
گوادر پورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے تجارتی و دفاعی اعتبار سے ایک اہم گیٹ وے ہے۔ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان واقع یہ بندرگاہ عالمی تجارت کے لیے ایک مختصر اور محفوظ راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں جب عالمی سپلائی چینز دباؤ کا شکار ہیں، گوادر ایک متبادل اور قابلِ اعتماد تجارتی راہداری کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ گوادر پورٹ کی اصل افادیت اس وقت مکمل طور پر سامنے آئے گی جب اسے مقامی آبادی کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ گوادر کے عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کیے بغیر اس منصوبے کے ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی پالیسی ساز اداروں کو چاہیے کہ گوادر کو صرف ایک تجارتی منصوبہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک مکمل معاشی و سماجی ترقی کے ماڈل کے طور پر فروغ دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شفافیت، مقامی شمولیت اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات پاکستان کے لیے ایک موقع ہیں کہ وہ گوادر پورٹ کو فعال اور مؤثر بنا کر نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم کرے بلکہ خطے میں ایک اہم تجارتی اور تزویراتی کردار بھی ادا کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں