سرکاری یونیورسٹیوں کی سطح پر برین ڈرین پورے ہائیر ایجوکیشن سیکٹر پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے،جعفر خان مندوخیل

کوئٹہ(این این آئی) گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہر صلاحیت اپنی نشوونما کیلئے مناسب موقع کا محتاج ہے اور موقع نہ ملنے کی صورت میں صلاحیت ضائع بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت صوبے کے دورافتادہ اضلاع میں بعض یونیورسٹیوں اور انکے کیمپسز کو پروفیسرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ یہاں سرکاری یونیورسٹیوں کی سطح پر “برین ڈرین” ہائیر ایجوکیشن سیکٹر پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ضروری مواقعوں اور سہولیات کی عدم فراہمی سے ہمارے روشن دماغ دوسرے صوبوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں لہٰذا ایک جامع پالیسی کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ “برین ڈرین” کی بجائے “برین گین” کیلئے راہ ہموار ہو سکے۔ یہ بات انہوں نے مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم اپنے پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو جاب سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ مراعات بھی فراہم کرینگے جس کے نتیجے میں وہ متعلقہ یونیورسٹی سے وابستہ رہتے ہوئے پورے دل و جان سے کام کرینگے۔ ہماری یہ تعلیم دوست حکمت عملی مستقبل قریب میں دوسرے صوبوں کے پروفیسرز اور سکالرز کو بھی راغب کریگی۔ ہماری طویل جدوجہد اور کڑی نگرانی سے خاصی بہتری آئی ہے۔ سینیٹ اور سینڈیکیٹ اجلاسوں کی بروقت انعقاد یونیورسٹیز کے امور ومعاملات میں شفافیت پیدا ہوئی ہے۔ ہماری یونیورسٹیاں اپنی کارکردگی کے اعتبار سے پنجاب اور سندھ کی یونیورسٹیوں کے برابر ہیں۔ انشاء اللہ اب دیگر صوبوں کے طلباء اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے بلوچستان آئیں گے۔اس وقت بھی جاب سیکورٹی نہ ہونیکی وجہ مجموعی طور 30 سے زائد سینئر پی ایچ ڈی سکالرز دیگر صوبوں میں جا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے ہاں مطلوبہ پروفیسرز کی عدم موجودگی محض تعداد کا بحران نہیں بلکہ یہ ہائیر ایجوکیشن سیکٹر کیلئے ایک وجودی سوال بھی ہے۔ تجربہ سے ثابت ہے کہ برین ڈرین کو روکنے کی پالیسی نہ اپنانے سے یہ وقت کے ساتھ تمام اداروں کیلئے “برین ہیمرج” ثابت ہوتا ہے۔گورنر مندوخیل نے کہا کہ اسکے برعکس وفاق اور دیگر صوبوں کی یونیورسٹیز میں فیکلٹی کو جاب سیکورٹی، بہتر معاوضے اور ترقی کے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ اسکے علاؤہ پروفیسرز کی عدمِ موجودگی سے ڈیپارٹمنٹس کی سطح پر بھی زیر تعلیم ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز اپنی سائنٹفک ریسرچ اور سپرویڑن سے محروم ہیں۔ ہمیں اس وقت زیادہ سینئر ماہرین، ریسرچرز اور سکالرز کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کی ترقی کا راز اسکے ٹیلنٹ کو ایکسپورٹ کرنے میں نہیں بلکہ یہاں انکے پروان چڑھانے میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا ہم یونیورسٹیوں کی تعمیر و ترقی پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن پروفیسرز کو جاب سیکورٹی کی عدمِ فراہمی سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ برین ڈرین کی لہر کو فوری طور پر روکنے سے صوبے کے روشن مستقبل کو بآسانی محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ اپنے پی ایچ ڈی سکالرز اینڈ ریسرچرز کو مضبوط اور بااختیار بنانے کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کا راز اپنے ماہرین و محققین کے علم وتجربے کو بروئے کار لاتے میں ہی پوشیدہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں