فشریز کا شعبہ بلوچستان،ملکی معیشت کے لیے استحکام کا باعث بن سکتا ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فشریز کی صنعت کو جدید بنیادوں پر ترقی دے کر اسے ایک منافع بخش اور پائیدار کاروبار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو نہ صرف صوبے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی استحکام کا باعث بن سکتا ہے طویل ساحلی پٹی، خصوصاً گوادر، پسنی، جیونی اور مکران کے علاقے، سمندری وسائل سے مالا مال ہیں، مگر بدقسمتی سے یہ شعبہ اب تک اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر سکا حکومتِ بلوچستان، وفاقی حکومت اور بین الاقوامی ادارے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں تو فشریز کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے چین کے ساتھ اقتصادی تعاون، خصوصاً سی پیک کے تناظر میں، جدید فش پروسیسنگ یونٹس، کولڈ اسٹوریج، اور ایکسپورٹ سہولیات کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ڈونرز اور ترقیاتی ادارے ٹیکنالوجی، تربیت اور سرمایہ فراہم کر کے اس صنعت کو عالمی معیار پر لا سکتے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ فشریز کی صنعت کی ترقی سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ماہی گیروں کو جدید تربیت, سہولیات، بہتر آلات اور مالی معاونت فراہم کر کے پیداوار اور آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ویلیو ایڈیشن کے ذریعے سمندری مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک رسائی دلائی جا سکتی ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطرخواہ بہتری آئے گی۔ اس شعبے کو درپیش چیلنجز جیسے انفراسٹرکچر کی کمی، پالیسی عدم تسلسل، اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا۔ پائیدار ماہی گیری کے اصول اپناتے ہوئے سمندری حیات کے تحفظ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ مربوط حکمتِ عملی، شفاف پالیسی سازی اور بین الاقوامی تعاون کو یقینی بنایا جائے تو بلوچستان کی فشریز انڈسٹری نہ صرف ایک بڑا کاروبار بن سکتی ہے بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی میں ایک مضبوط ستون کے طور پر ابھر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں