کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشیداحمد، حاجی بشیراحمد کاکڑ، حافظ شبیراحمد مدنی، حاجی رحمت اللہ کاکڑ، سید حاجی عبدالواحد آغا، حافظ مسعوداحمد، حاجی محمد قاسم خلجی، حاجی ولی محمد بڑیچ، صفی اللہ مینگل، شاہ زاہد مشوانی اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملک میں آئین اور جمہوریت کی بالادستی کو مجروح کیا گیا ہے۔ پارلیمانی نظام کو کمزور کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جو جمہوری اصولوں اور آئینی تقاضوں سے متصادم ہیں۔ پارلیمنٹ کو محض رسمی حیثیت تک محدود کردیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے عمل میں عوامی مفاد کو نظر انداز کرکے بعض غیر مرئی قوتوں کی خوشنودی کو ترجیح دی جا رہی ہے جو کہ آئین، جمہوریت اور پارلیمانی وقار کے لیے شرمناک عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت حقیقی معنوں میں اختیارات سے محروم دکھائی دیتی ہے اور اس کی کارکردگی زیادہ تر نمائشی اقدامات تک محدود ہے پوری قوم جانتی ہے کہ اہم فیصلے کہیں اور طے پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمامِ اقتدار عملاً عوامی نمائندوں کے بجائے غیر منتخب عناصر کے پاس ہے جو ملک و قوم کے مفادات کے منافی ہے۔ ملک کو درپیش سیاسی و معاشی بحرانوں کا حل آئین کی بالادستی، جمہوری اداروں کے احترام اور حقیقی عوامی نمائندگی کے قیام میں مضمر ہے۔

